ایرانی سرحدوں سے اسلحے کی ترسیل روکنے کیلئے امریکا نے نئی ٹاسک فورس بنا دی

فائل فوٹو/ سینٹ کام
امریکی فوج نے ایران کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور پابندیوں کی زد میں آنے والے دیگر سامان کی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے راستے نقل و حمل روکنے کے لیے نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے ذریعے جدید ہتھیاروں اور دیگر ممنوعہ سامان کی نقل و حمل روکنے کے لیے نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کردی۔
سینٹکام کے مطابق 7 نومبر کو قائم کیے جانے والے اس یونٹ کو ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا نام دیا گیا ہے، جس میں تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے۔ اس کا مرکزی دفتر امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں ہوگا۔
نئی جنگ کی صورت میں یورپ پر حملہ ہوگا، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جائے گی، ایران کی دھمکی
نئی ٹاسک فورس امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایران کی زمینی سرحدوں اور بحیرۂ کیسپین کے راستے جدید ہتھیاروں، دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی، پابندیوں کی زد میں آنے والے سامان اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی نقل و حملروکنے کے لیے کام کرے گی۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ٹاسک فورس آئرن گیٹ کا قیام سمندر میں ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید تقویت دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومتی اداروں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے سے ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کی فیکٹریاں دوبارہ تعمیر کرنے اور اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کرنے کی استعداد مزید محدود ہو جائے گی۔
سینٹکام کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں کی سخت نگرانی اور ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ