جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

لاہور: سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر میں 4 ماہ سے ادویات دستیاب نہ ہونے کا انکشاف

تازہ ترین
لاہور: سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر میں 4 ماہ سے ادویات دستیاب نہ ہونے کا انکشاف

لاہور میں سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر میں 4 ماہ سے ادویات دستیاب نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

لاہور میں جیل روڈ پر 26 سال سے سرکاری تھیلیسمیا سینٹر قائم ہے، اس سینٹر میں اب تک 900 سے زائد بچوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے لیکن گزشتہ 4 ماہ سے آئرن کی ادویات سینٹر میں موجود نہیں۔

ادویات نہ ملنے سے اب تک 2 سگے بہن بھائی سمیت 7 بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تھیلی سیمیا سے بچاؤ اور آگاہی

تھیلیسیمیا: مرض سے جنگ مشکل، احتیاط آسان

تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ادویات نہ ملنے سے کئی بچے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

سرکاری تھیلیسیمیا سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے ادویات کی قلت ہے، یہی ادویات فیصل آبد اور راولپنڈی کے سرکاری تھیلیسیمیا سینٹرز میں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر فرحان رشید کے مطابق رواں سال تھیلیسیمیا کی ادویات کی کمی کا سامنا ہے، 2 مرتبہ ٹینڈر دیے، پہلا ٹینڈر کوئی کمپنی نہ آنے پر خارج ہو گیا اور دوسرے ٹینڈر کا پراسس جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سرکاری سینٹر میں تھیلیسیمیا کے روزانہ 25 مریض انتقالِ خون کے لیے آتے ہیں۔

پاکستان ڈرگ لائرز فورم کے صدر نور مہر کا کہنا ہے کہ تھیلیسیمیا کی دوائی پاکستان میں صرف 2 سے 3 کمپنیاں بناتی ہیں، یہ دوا عام فارمیسی سے نہیں ملتی، ایسے مریضوں کی 1 ماہ کی دوائی کی قیمت تقریباً 10 ہزار روپے ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ