جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

الزائمر کی ابتدائی علامت 10 سے 15 سال پہلے کانوں میں ظاہر ہو سکتی ہے: تحقیق

تازہ ترین
الزائمر کی ابتدائی علامت 10 سے 15 سال پہلے کانوں میں ظاہر ہو سکتی ہے: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الزائمر کی بیماری کی ابتدائی علامات نمایاں طور پر یادداشت متاثر ہونے سے کئی سال پہلے جسم کے ایک اہم حصے یعنی کانوں میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔

ویلز آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف اولو اور یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ کے محققین کی تحقیق طبی جریدے ’الزائمرز اینڈ ڈیمینشیا‘ میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق 65 سال سے کم عمر کے الزائمر کا شکار ہونے والے افراد میں بیماری کی باقاعدہ تشخیص سے 15 سال پہلے تک صحت کے مختلف مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔

محققین نے سماعت کے مسائل، خصوصاً کانوں میں مسلسل گھنٹیاں بجنے یا بھنبھناہٹ محسوس ہونے اور اعصابی کمزوری کے باعث سماعت متاثر ہونے کو ابتدائی ممکنہ علامات میں شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

الزائمر سے نجات کی نئی امید، ’جین سوئچ تھراپی‘ روک تھام میں کامیاب

تحقیق کے مطابق الزائمر کی تشخیص سے 6 سے 10 سال پہلے ایسے مریضوں میں کانوں سے متعلق ان مسائل کی شکایات سامنے آنے کا امکان دیگر افراد کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہوتا ہے، جبکہ اس مرحلے پر یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں نمایاں کمی ظاہر نہیں ہوئی ہوتی۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ دماغ میں ابتدائی سطح پر بننے والی پروٹین کی تہیں سماعت سے متعلق حصے کو متاثر کرنا شروع کر دیتی ہیں، جبکہ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آوازوں کو سمجھنے اور ان کی تشریح کرنے میں دماغ کی زیادہ توانائی صرف ہونے لگتی ہے، جس سے دیگر ذہنی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

امریکی طبی محقق نیل کے شاہ نے یوٹیوب پر اپنی ایک ویڈیو میں نئی تحقیق کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الزائمر کی تشخیص سے 6 سے 10 سال پہلے تحقیق میں شامل 23 طبی مسائل کی اقسام میں سے صرف کان، ناک اور گلے سے متعلق بیماریوں کا نمایاں اشارہ سامنے آیا۔

ان کے مطابق ان مسائل میں کانوں میں مسلسل گھنٹیاں بجنا اور دونوں کانوں میں اعصابی خرابی کے باعث سماعت متاثر ہونا شامل ہے۔

تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق تشخیص سے 6 سے 10 سال پہلے الزائمر کے ممکنہ مریضوں میں یہ مسائل 4.7 فیصد جبکہ کنٹرول گروپ میں 2.1 فیصد افراد میں پائے گئے، تشخیص سے آخری 5 سال پہلے یہ شرح بالترتیب 5.2 فیصد اور 2.9 فیصد رہی۔

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ