کراچی پریس کلب کے راستوں کی بندش پر صحافتی تنظیموں کی مذمت

کراچی پریس کلب جو کئی دہائیوں سے آزادیٔ اظہار رائے، جمہوری جدوجہد، صحافتی آزادی اور عوامی حقوق کی آواز بلند کرنے کا ایک تاریخی مرکز رہا ہے گزشتہ کچھ عرصے سے پولیس کی جانب سے مختلف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے مسلسل بندشوں کا سامنا کر رہا ہے۔
پولیس کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے سے روکنے کے نام پر پریس کلب جانے والے راستوں پر کنٹینرز لگا کر انہیں بند کر دیا جاتا ہے۔
مختلف سرکاری و عوامی مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں، ملازمین، اساتذہ اور دیگر تنظیموں کے نمائندوں کو پریس کلب تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اطراف کی سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں جبکہ بعض اوقات پورے علاقے کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔
پولیس کی جانب سے ان اقدامات کے لیے ریڈ زون میں داخلے اور سیکیورٹی انتظامات کو جواز بنایا جاتا ہے تاہم اس صورت حال کے باعث ناصرف احتجاج کرنے والے افراد کو اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ صحافیوں، پریس کلب کے ارکان اور عام شہریوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوتی ہے۔
راستے بند ہونے سے آئے روز بدترین ٹریفک جام کی صورتحال بھی معمول بن گئی ہے۔
کراچی پریس کلب شہر اور ملک میں جمہوری تحریکوں، شہری آزادیوں، انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی جدوجہد کی ایک تاریخی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مختلف ادوار میں سیاسی، سماجی اور مزدور تنظیموں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے مطالبات اور مسائل اجاگر کرنے کے لیے اسی پلیٹ فارم کا رخ کیا ہے۔
پریس کلب کے باہر احتجاج اور مظاہرے کرنا ایک دیرینہ روایت رہی ہے جہاں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد میڈیا کے ذریعے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچاتے ہیں۔
ایسے میں پریس کلب کے راستوں کی بندش اور لوگوں کو وہاں پہنچنے سے روکنے کے اقدامات نے آزادی اظہار رائے، پرامن احتجاج کے آئینی حق اور عوامی مقامات تک رسائی کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صحافتی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات اپنی جگہ اہم ہیں تاہم ان کی آڑ میں کراچی پریس کلب جیسے تاریخی اور جمہوری ادارے تک رسائی محدود نہیں ہونی چاہیے، انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ احتجاج کرنے والوں اور دیگر شہریوں کے حقوق کو متاثر کیے بغیر سیکیورٹی کے متبادل انتظامات کرے اور پریس کلب کے راستوں کو مستقل یا غیر ضروری طور پر بند کرنے سے گریز کرے، اگر شہریوں کو اپنے مسائل کے اظہار اور احتجاج کے لیے کراچی پریس کلب تک پہنچنے کی اجازت نہیں ہو گی تو پھر آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج کے لیے مختص اس تاریخی پلیٹ فارم کی حیثیت اور افادیت کیسے برقرار رہ سکے گی؟
صحافتی تنظیموں نے بھی کراچی پریس کلب کی بندش کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
کراچی پریس کلب کے سیکریٹری اسلم خان کا کہنا ہے کہ پریس کلب ہمیشہ ایک ایسا مرکز رہا ہے جہاں سیاسی جماعتیں اور شہری اپنے مسائل حکام بالا تک پہنچانے کے لیے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے جو صورتحال سامنے آ رہی ہے اس میں دیکھا گیا ہے کہ احتجاج کے نام پر پولیس پورے علاقے کو بند کر دیتی ہے جس کی وجہ سے احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پریس کلب آنے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام سے بھی یہ بات کی گئی ہے کہ اگر لوگ پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو انہیں احتجاج کرنے دیا جائے، احتجاج کو روکنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان سے پریس کلب آنے والے افراد کو تو مشکلات ہوتی ہیں تاہم عام شہری جن کا اس احتجاج سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا وہ بھی راستوں کی بندش کے باعث گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنس جاتے ہیں۔
اسلم خان کا کہنا ہے کہ جب سے پریس کلب بنا ہے یہاں احتجاج ہوتا رہا ہے اور کبھی اس سے قبل راستوں کو اس طرح سے بند نہیں کیا گیا، اگر کوئی وزیرِ اعلیٰ ہاؤس بھی جانا چاہتا ہے تو چند لوگوں کو وہاں بات کرنے کے لیے اگر جانے دیا جائے تو اس طرح کی صورتِ حال پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نامناسب ہیں اور ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری ریحان چشتی نے مطالبہ کیا ہے کہ جمہوری دور میں کسی بھی احتجاج کو روکنے کے لیے راستوں کی بندش کا سلسلہ بند کیا جائے، پریس کلب صحافیوں کا دوسرا گھر ہے، پریس کلب کے راستے بند ہونے سے صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بارہا اعلیٰ پولیس افسران راستے کھلے رکھنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں لیکن ہر دوسرے تیسرے روز راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پریس کلب کے راستے کھلے رکھے جائیں۔
کے یو جے برنا کے صدر اعجاز احمد نے کراچی پریس کلب کے راستوں کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریس کلب آزادیٔ اظہار رائے اور جمہوری احتجاج کی علامت ہے، اس کے راستے بند کرنا بنیادی شہری اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے، حکومت، پولیس اور انتظامیہ احتجاج روکنے کے لیے پریس کلب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان( ایچ آر سی پی) کے چیئرمین اسد بٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح سے سڑکوں کو بلاک کرنا ایک غیر قانونی اور غیر آئینی طریقہ کار ہے، کراچی پریس کلب ایک ہائیڈ پارک ہے جہاں لوگ اپنی بات کرتے تھے، اپنے دل کی بھڑاس نکال کر چلے جاتے تھے، اگر پریس کلب کے راستے بھی بند کر دیے جائیں گے تو لوگ اپنی بات کہاں کریں گے؟ جب راستے بند ہوں گے اور لوگوں کو اپنی بات کرنے کا موقع نہیں ملتا تو لاوا اندر ہی اندر پکتا ہے اور پھر انارکی پھیلتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ