بینکنگ بحران اور یوئینو بینک اسکینڈل، پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا مستعفی

پیراگوئے کے مستعفی صدر سینتیاگو پینا---فائل فوٹو
پیراگوئے کے صدر سینتیاگو پینا نے بینکنگ بحران اور یوئینو بینک اسکینڈل کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
سی این این کے مطابق صدر سینتیاگو پینا نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
یوئینو بینک کو مالیاتی بحران کے باعث رات گئے بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین اپنی رقوم تک رسائی سے محروم ہو گئے اور ملک میں تنازع نے جنم لیا۔
سینتیاگو پینا نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ملک کے استحکام، سماجی امن اور سرکاری اداروں کے تحفظ کو مدِنظر رکھتے ہوئے صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت میری اولین ترجیح ان شہریوں کو ذہنی سکون فراہم کرنا ہے جنہوں نے اپنا سرمایہ ملک کے مالیاتی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے جمع کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مارکو روبیو کی عہدہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید، ٹرمپ کیساتھ مدت پوری کرنے کا اعلان
صدر پینا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تاریخ موجودہ واقعات کا فیصلہ کرے گی اور اگر میں کسی بھی موقع پر عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہا تو میں ان سے معذرت خواہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب پیراگوئے کی پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ صدر کا استعفیٰ منظور کرتی ہے یا مسترد، پارلیمنٹ میں یوئینو بینک اسکینڈل پر صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے پر بھی غور کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کے 35 ارکان اور حکمراں جماعت کے منحرف ارکان نے صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے الزامات پیش کیے تھے، ان میں فرائض کی سنگین اور مسلسل غفلت کے الزامات بھی شامل ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یوئینو بینک کے صارفین کی تعداد تقریباً 29 لاکھ 40 ہزار تھی، جو پیراگوئے کی بالغ آبادی کا تقریباً 60 فیصد بنتی ہے۔
گزشتہ ماہ تک بینک میں تقریباً 80 کروڑ ڈالرز کے سرکاری شعبے کے ڈپازٹس موجود تھے، جو اس کے مجموعی ڈپازٹس کا تقریباً ایک چوتھائی تھے، ان میں پیراگوئے کے بڑے پن بجلی منصوبوں کے منتظمین کی رقوم بھی شامل تھیں۔
پیراگوئے کے مرکزی بینک نے یوئینو بینک کے مالیاتی استحکام کا تناسب مقررہ کم از کم حد کے نصف سے بھی کم ہونے پر منگل کو بینک کی بندش اور تصفیے کا عمل شروع کرنے کا حکم دیا۔
بینک کی موبائل ایپ، کارڈ کے ذریعے ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کی سہولتیں بند ہو گئیں، جبکہ برانچز بھی بند کر دی گئیں، جس کے باعث صارفین اپنی جمع پونجی نکلوانے کے لیے بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو گئے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ