جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکی اسٹاک مارکیٹ کو 19 ماہ کی بدترین گراوٹ کا سامنا، کھربوں ڈالرز ڈوب گئے

تازہ ترین
امریکی اسٹاک مارکیٹ کو 19 ماہ کی بدترین گراوٹ کا سامنا، کھربوں ڈالرز ڈوب گئے

امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد وال اسٹریٹ میں آنے والی غیر معمولی تیزی اگلے ہی روز شدید مندی میں تبدیل ہو گئی اور امریکا کی اسٹاک مارکیٹ کو 19 ماہ کی بدترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کی کامیابی پر سرمایہ کاروں نے ابتداء میں خوشی کا اظہار کیا اور توقع کی جا رہی تھی کہ کانگریس میں طاقت کے توازن کی تبدیلی سے سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتِ حال کم ہو گی، تاہم اگلے ہی روز مارکیٹ میں خدشات پیدا ہوئے کہ کانگریس اور ریاستی حکومتوں میں ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی طاقت اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، بجلی کے استعمال اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری پر نئی پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

اے آئی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بلند سطح پر تھیں، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے خطرات کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر شیئرز فروخت کرنا شروع کر دیے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کی امریکا کو جوہری معاہدے کی نئی تجاویز، 7 سخت شرائط سامنے آ گئیں

دہلی آلودہ ترین شہر، لاہور دوسرے نمبر پر

مارکیٹ میں سب سے زیادہ نقصان سیمی کنڈکٹر اور اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کو ہوا، چپ ساز کمپنیوں کے شیئرز کی فروخت نے مجموعی مارکیٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

نیسڈک 5.52 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.36 فیصد، ڈاؤ جونز انڈیکس 3.44 فیصد اور سیمی کنڈکٹر انڈیکس تقریباً 12 فیصد گر گیا۔

این ویڈیا کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 450 ارب ڈالرز کی کمی ہوئی اور ایس اینڈ پی 500 کی مجموعی مارکیٹ ویلیو سے تقریباً 3 کھرب ڈالرز کم ہو گئے۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ کی موجودہ صورتِ حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب اے آئی کے مستقبل کے امکانات کے بجائے اس شعبے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی حقیقی آمدنی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں ممکنہ سست روی اور نئی حکومتی پابندیوں کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ