ایران جنگ: دشمن کے ریڈار کا سراغ لگانے والا امریکی جاسوس طیارہ برطانیہ پہنچ گیا

امریکا کے 2 انتہائی جدید جاسوس طیاروں میں سے ایک برطانیہ پہنچ گیا، جسے دشمن کے ریڈار نظام کی نشاندہی اور نگرانی کی صلاحیت حاصل ہے۔
طیارے کی برطانیہ آمد ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران پر امریکا کے ممکنہ نئے فوجی حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
آر سی 135 یو کومبیٹ سینٹ نامی جاسوس طیارے کو بدھ کے روز بحرِ اوقیانوس عبور کرتے ہوئے برطانیہ پہنچتے ٹریک کیا گیا، جہاں اس نے انگلینڈ کی کاؤنٹی سفوک میں واقع آر اے ایف ملڈن ہال ایئر بیس پر لینڈنگ کی۔
پرواز کی نگرانی کرنے والے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے پورٹس ماؤتھ انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 1 بج کر 51 منٹ پر اڑان بھری اور 6 گھنٹے 42 منٹ کی پرواز کے بعد برطانیہ پہنچا۔
طیارے کا شناختی نمبر 64-14849 ہے، اس نے اس سے قبل امریکی ریاست نیبراسکا کے آفٹ ایئر فورس بیس سے پرواز کی تھی، جہاں امریکی فضائیہ کے دونوں کومبیٹ سینٹ طیارے تعینات ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
امریکا نے جدید جاسوس آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا
روایتی جاسوس طیاروں کے برعکس آر سی 135 یو جدید الیکٹرانک نگرانی کے نظام سے لیس ہے، جو دوسرے ممالک کے فوجی ریڈار نظام کا سراغ لگانے، ان کی شناخت کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس طیارے سے حاصل ہونے والی خفیہ معلومات امریکی افواج کو دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو سمجھنے اور فوجی کارروائیوں کے دوران ان سے بچنے یا انہیں ناکارہ بنانے کی حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
طیارے کی برطانیہ آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور ایران پر امریکا کے ایک اور ممکنہ حملے سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
طیارے کی اگلی منزل اور آپریشنل ذمے داریوں کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
فوجی مبصرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ طیارہ بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ کا رخ کر سکتا ہے، تاہم برطانیہ میں اس کی موجودگی کسی فوری حملے کا ثبوت نہیں۔
امریکی فضائیہ کے مطابق کومبیٹ سینٹ طیارے امن کے زمانے کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیوں کے دوران بھی انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ