معاشی استحکام ترجیح ہے، اسے دوبارہ حاصل کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں: محمد اورنگزیب

فوٹو: فائل
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام برقرار رکھنا بنیادی ترجیح ہے۔ معاشی استحکام کھونا آسان، اسے دوبارہ حاصل کرنے میں 4-5 سال لگ جاتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مہنگے، قلیل مدتی کی جگہ 5 سے 10 سالہ طویل مدتی قرضے لے رہے ہیں۔ قلیل مدتی مہنگے قرضوں کی ادائیگی کرکے قرضوں کی مدت بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ قرضوں کی واپسی اور رول اوور کا خطرہ رہا ہے۔ ہر 3 ماہ بعد بینکوں سے قرضوں کی ری فنانسنگ کرنا پڑتی تھی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مالیاتی نظم وضبط کے باعث پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی۔ پاکستان کا مالیاتی خسارہ ساڑھے 12 فیصد سے کم ہو کر 2.5 فیصد پر آگیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا صرف 0.1 فیصد رہا، گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 30 کروڑ ڈالر رہا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے 1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ معاشی ترقی کے ساتھ درآمدات بڑھنے سے کرنٹ اکاؤنٹ پر اثر پڑتا ہے۔
اپنی بریفنگ کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی بل پر دباؤ آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام برقرار رکھنا بنیادی ترجیح ہے۔ معاشی استحکام کھونا آسان، اسے دوبارہ حاصل کرنے میں 4-5 سال لگ جاتے ہیں۔ گزشتہ سیلاب کے بعد پاکستان نے اپنے مالی وسائل سے امداد اور بحالی کے اقدامات کیے۔ مالی گنجائش موجود ہو تو امداد اور بحالی کیلئے اپنے وسائل استعمال کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 سے 8 ماہ کے دوران ملک میں لیکویڈیٹی کی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ نقدی کی قلت یا امن وامان کی کوئی غیرمعمولی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بہتر ہو کر بی ہوگئی۔ آئندہ مالی سال کے آغاز تک بی پلس ریٹنگ حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ ہدف بی پلس سے آگے بڑھ کر ڈبل بی کریڈٹ ریٹنگ کی کیٹیگری میں داخل ہونا ہے۔ پاکستان کی بہترین خود مختار کریڈٹ ریٹنگ ماضی میں بی پلس رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر ساڑھے 4 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ رواں مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں تقریباً 4 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کم ہو کر ساڑھے 3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا حکومت کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ آسکتا ہے۔ دوبارہ عالمی قرض دہندگان کے پاس جانے سے بچنے کیلئے محتاط پالیسی اپنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت میں استحکام کے باوجود بڑی معیشتوں کا مستقبل تشویشناک دکھائی دے رہا ہے۔ یورپی ممالک بھی اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات اور تعاون اہمیت کے حامل ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ