منگل، 3 نومبر، 2026 · 24 جمادی الاول، 1448 ہجری

ہفتے بھر دیر تک جاگنا، ویک اینڈ پر دیر تک سونا سنگین خطرات کا باعث

تازہ ترین
ہفتے بھر دیر تک جاگنا، ویک اینڈ پر دیر تک سونا سنگین خطرات کا باعث

حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہفتے بھر دیر تک جاگنے کے بعد ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دیر تک سونے کی عادت صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔

محقیقن نے اس تحقیق کے لیے 10 لاکھ سے زائد راتوں کی نیند کا تجزیہ کیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ سونے کے اوقات میں مسلسل تبدیلی دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے اور اس سے فالج کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق نیند کے دوران دل کی صحت پر اثرات کا جائزہ لینے والے ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ نیند کے دورانیے میں بہت زیادہ فرق، مثلاً ہفتے کے اختتام پر دیر تک سونا یا معمول کے وقت پر سونے سے گریز کرنا صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

خواتین کی آنکھ صبح ساڑھے 3 بجے کیوں کھل جاتی ہے؟ ماہرین نے حیران کن وجہ بتا دی

یہ تحقیق شکاگو میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنسی اجلاس 2026ء میں پیش کی گئی، تاہم تاحال اس کا ماہرین کی جانب سے باضابطہ جائزہ (Peer Review) نہیں لیا گیا۔

محققین نے امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے تحقیقی پروگرام ’آل آف اس‘ کے تحت 10 ہزار سے زائد بالغ افراد کے نیند سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کیا، تحقیق کے شرکاء نے اپنی جسمانی سرگرمیوں اور نیند کی نگرانی کے لیے مخصوص ٹریکنگ ڈیوائسز پہن رکھی تھیں۔

تحقیق میں نیند کے دورانیے (یعنی ہر رات مجموعی طور پر کتنے گھنٹے نیند لی گئی)، نیند کے معیار (یعنی رات کا کتنا وقت ہلکی، گہری اور آر ای ایم نیند میں گزرا) اور نیند آنے کے بعد دوبارہ بیدار رہنے کے دورانیے کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً 6 ماہ کے عرصے میں ہر رات سونے کے اوقات میں تبدیلی کا تعلق دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیل ہونے سمیت سنگین طبی مسائل کے خطرے میں 20 سے 23 فیصد اضافے سے تھا۔

اسی طرح ہر رات نیند کے دورانیے میں اوسطاً 29 منٹ کے اضافی فرق کا تعلق بھی صحت کے زیادہ خطرات سے سامنے آیا۔

رات کو زیادہ گرم کمرے میں سونے سے معمر افراد میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تحقیق

تحقیق کے مطابق اس بے قاعدگی سے دل کے پٹھوں کی بیماری (کارڈیو مایوپیتھی) کا خطرہ 29 فیصد زیادہ پایا گیا، جس میں دل جسم کو ضرورت کے مطابق خون پمپ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جبکہ ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی 20 فیصد زیادہ دیکھا گیا۔

اس کے برعکس ہر رات نیند کے مکمل سائیکلز کی زیادہ تعداد کا تعلق ایٹریل اریتھمیا (دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی کی ایک عام قسم) کے خطرے میں 28 فیصد کمی سے سامنے آیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق نیند کے اوقات میں باقاعدگی برقرار رکھنا دل کی حفاظت کے لیے ایک اہم عامل ثابت ہو سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ