ناسا کے 4 رضاکار ’مریخ‘ جیسے ماحول میں 378 دن گزارنے کے بعد واپس آ گئے

امریکی خلائی ادارے ناسا کے 4 رضاکار مریخ جیسے محدود ماحول میں 378 روز تک رہنے کے بعد بالآخر واپس نارمل زندگی میں لوٹ آئے۔
4 رکنی ٹیم امریکی شہر ہیوسٹن میں واقع ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے خصوصی رہائشی حصے سے باہر نکل آئی۔
اس تجربے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ انسان مریخ کے طویل سفر کے دوران تنہائی، محدود وسائل اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کس طرح کر سکتے ہیں۔
ناسا نے مریخ کی حیرت انگیز ویڈیو جاری کر دی
رضاکاروں نے ایک سال سے زائد عرصے تک 1700 مربع فٹ پر مشتمل تھری ڈی پرنٹڈ رہائشی حصے میں زندگی گزاری، جہاں انہوں نے فصلیں اگائیں، خلائی چہل قدمی کی مشقیں کیں اور سائنسی تجربات انجام دیے
تجربے کے دوران بیرونی دنیا سے رابطے کے لیے بھی مصنوعی تاخیر کا نظام متعارف کرایا گیا تاکہ زمین اور مریخ کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں لگنے والے وقت کی نقل کی جا سکے، یہاں تک کہ اہلِ خانہ سے گفتگو بھی تاخیر سے موصول ہونے والی ای میلز تک محدود رہی۔
4 رکنی ٹیم میں کمانڈر راس ایلڈر، میڈیکل افسر ایلن ایلس، سائنس افسر میتھیو مونٹگمری اور فلائٹ انجینئر جیمز اسپائسر شامل تھے۔
تنہائی سے باہر آنے کے بعد ایلن ایلس نے اس تجربے کو 1 ایسا سال قرار دیا جس میں انہوں نے اپنی مرضی سے خود کو بیرونی دنیا سے الگ رکھا۔
کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ (CHAPEA) نامی یہ تجربہ 19 اکتوبر 2025ء کو شروع ہوا تھا، اس دوران ناسا نے رضاکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں، جسمانی صحت، ٹیم ورک اور محدود وسائل کے استعمال کا جائزہ لیا۔
اب چاروں رضاکاروں کے طبی معائنے اور تجربے سے متعلق تفصیلی جائزے کا عمل 2 ہفتوں تک جاری رہے گا تاکہ محققین طویل عرصے تک زمین سے دور رہنے والے خلاء بازوں کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
مریخ پر خلائی مخلوق کی بندوق؟ ناسا کی تصویر نے نئی بحث چھیڑ دی
یہ ناسا کا مریخ پر زندگی کی نقل کرنے کا دوسرا 1 سالہ تجربہ تھا، اس سے قبل 2024ء میں بھی اسی نوعیت کا تجربہ مکمل کیا گیا تھا۔
ناسا کو امید ہے کہ اس تحقیق کے نتائج مستقبل میں چاند اور مریخ کے مشنز کی تیاری میں مددگار ثابت ہوں گے، جہاں خلاء بازوں کو کئی سال تک زمین اور اپنے اہلِ خانہ سے دور رہنا پڑ سکتا ہے اور فوری مدد کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہو گی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ