پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

فلوریڈا طیارہ حادثہ: پائلٹ کی مے ڈے کالز کی آڈیو سامنے آ گئی

تازہ ترین
فلوریڈا طیارہ حادثہ: پائلٹ کی مے ڈے کالز کی آڈیو سامنے آ گئی

امریکی ریاست فلوریڈا میں تباہ ہونے والے لیئر جیٹ طیارے کے پائلٹ کی آخری لمحات کی فضائی ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی گفتگو کی آڈیو سامنے آ گئی۔

آڈیو میں پائلٹ کو طیارے پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے مدد کے لیے ہنگامی پیغامات دیتے سنا جا سکتا ہے، حادثے میں طیارے میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہو گئے۔

آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق پائلٹ نے ابتداء میں شدید جھٹکوں اور طیارے پر برف جمنے کی صورتِ حال سے آگاہ کیا اور ہموار فضائی راستے کی تلاش کا ذکر کیا۔

عملے نے بیرونی درجۂ حرارت منفی 47 ڈگری سینٹی گریڈ بھی بتایا، تاہم کچھ ہی دیر بعد طیارہ تیزی سے بلندی کھونے لگا۔

پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کی کال دیتے ہوئے بتایا کہ طیارہ 8 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے جا رہا ہے اور اس کی رفتار 10 ہزار فٹ فی منٹ ہے۔

بعد ازاں پائلٹ نے بتایا کہ طیارہ مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر ہے اور 20 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا ہے۔

ایئر ٹریفک کنٹرولر نے عملے کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی کی بلندی منتخب کر سکتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ موجود ہے، تاہم طیارے کی گرتے وقت رفتار مزید بڑھتی گئی۔

پائلٹ نے ایک اور پیغام میں کہا کہ طیارہ زمین سے ٹکرانے والا ہے۔

عملے کے مطابق طیارہ 22 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا اور 60 ڈگری کے زاویے پر جھکا ہوا تھا۔

امریکا، فلوریڈا میں نجی کمپنی کا طیارہ گر کر تباہ، 9 افراد ہلاک

ریکارڈنگ کے آخری لمحات میں کاک پٹ سے ایک شخص کو یہ کہتے سنا گیا کہ باہر دیکھو، ہمارے پاس وقت ختم ہو چکا ہے، اس کے کچھ ہی دیر بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔

لیئر جیٹ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 50 منٹ پر پام بیچ کاؤنٹی کے علاقے کریس ہیون کے قریب گر کر تباہ ہوا۔

طیارہ رہائشی علاقے کی جانب گرتے ہوئے سڑک پر جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے، جائے حادثہ پر سڑک پر بڑا گڑھا بھی پڑ گیا۔

طیارے نے ٹیکساس کے آسٹن برگ اسٹروم انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے پرواز کی تھی اور اسے بہاماس جانا تھا۔

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

این ٹی ایس بی کی ٹیم طیارے کے ملبے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

حکام کے مطابق طیارے پر برف جمنے، فضائی جھٹکوں اور تیزی سے بلندی کھونے کے عوامل بھی تحقیقات کا حصہ ہوں گے، تاہم حادثے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ