پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

کھیل کے بعد امریکی سیاست بھی سٹے بازوں کے نشانے پر، وسط مدتی انتخابات میں کروڑوں ڈالرز کا جوا

تازہ ترین
کھیل کے بعد امریکی سیاست بھی سٹے بازوں کے نشانے پر، وسط مدتی انتخابات میں کروڑوں ڈالرز کا جوا

امریکا میں کھیلوں کے بعد سیاست بھی سٹے بازی کا بڑا مرکز بن گئی، 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس، سینیٹ اور گورنروں کی نشستوں پر کروڑوں ڈالرز کے داؤ لگائے جا رہے ہیں۔

امریکی انتخابی پیشگوئی کی منڈی کیلشی کے مطابق گزشتہ 30 دنوں کے دوران مختلف انتخابی منڈیوں میں تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگایا گیا جبکہ صرف 31 اکتوبر کو 1 روز میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالرز داؤ پر لگائے گئے۔

ان اعداد میں دیگر انتخابی منڈیاں بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف 3 نومبر کے انتخابات پر لگائی گئی رقم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکا میں 3 نومبر کو کانگریس کی 435، سینیٹ کی 35 اور 36 ریاستوں میں گورنروں کی نشستوں پر انتخابات ہوں گے، ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول سے متعلق منڈی میں 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالرز کے داؤ لگائے گئے جہاں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا امکان 93 فیصد جبکہ ری پبلکنز کا 7 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔

سینیٹ کے مجموعی کنٹرول سے متعلق منڈی میں 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا جہاں ڈیموکریٹس کے کنٹرول کا امکان 72 فیصد اور ری پبلکنز کا 28 فیصد بتایا گیا، سینیٹ سے متعلق ایک دوسری منڈی میں بھی 2 کروڑ 55 لاکھ ڈالرز کے داؤ لگائے گئے۔

انتخابی سٹے بازی میں سب سے زیادہ توجہ ٹیکساس کی سینیٹ کی نشست پر ہے جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلے پر 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز داؤ پر لگائے جا چکے ہیں، سٹے بازوں کے مطابق ٹیلاریکو کی کامیابی کا امکان 69 فیصد جبکہ پیکسٹن کا 31 فیصد ہے۔

ٹیکساس کی گورنر کی نشست پر موجودہ ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا کے درمیان مقابلے میں ایبٹ کی کامیابی کا امکان 66 فیصد اور ہینوہوزا کا 34 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔

دیگر ریاستوں میں بھی سینیٹ انتخابات پر بھاری رقوم داؤ پر لگی ہوئی ہیں، ریاست مین میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے مقابلے پر تقریباً 1 کروڑ 65 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا ہے جہاں جیکسن کی کامیابی کا امکان 69 فیصد اور کولنز کا 31 فیصد ہے۔

مشی گن میں عبدالسید اور مائیک راجرز، اوہائیو میں شیروڈ براؤن اور جان ہسٹڈ، آئیووا میں جوش ٹیورک اور ایشلے ہنسن جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن اور راجر مارشل کے مقابلوں پر بھی سٹے بازوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

امریکی الیکشن، ٹرمپ کی طاقت کا فیصلہ کل، وائٹ ہاؤس نے شکست کی صورت میں حکمت عملی بنالی

گورنروں کے انتخابات میں بھی جوئے کا سلسلہ جاری ہے، اوہائیو میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کے مقابلے پر تقریباً 76 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا جہاں ایکٹن کی کامیابی کا امکان 79 فیصد اور راماسوامی کا 21 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔

فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز اور ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی سمیت جارجیا، نیواڈا اور کنساس کے گورنر انتخابات بھی سٹے بازوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

کیلشی پر انتخابی سٹہ کیسے لگایا جاتا ہے؟

کیلشی پر سٹے باز کسی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہاں یا نہیں کے معاہدے خریدتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی امیدوار کی کامیابی کا معاہدہ 70 سینٹ میں خریدا جائے اور وہ امیدوار جیت جائے تو معاہدے کی مالیت 1 ڈالرز ہو جاتی ہے جس سے فیس نکال کر خریدار کو منافع ملتا ہے تاہم امیدوار کی شکست کی صورت میں معاہدے کی مالیت صفر ہو جاتی ہے اور سٹے باز اپنی پوری رقم سے محروم ہو جاتا ہے۔

انتخابی سرویز، امیدواروں کے بیانات اور سیاسی پیش رفت کے ساتھ ان معاہدوں کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں تاہم کیلشی پر کسی امیدوار کی کامیابی کا 70 فیصد امکان ظاہر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے 70 فیصد ووٹ ملیں گے بلکہ یہ اس وقت کی خرید و فروخت اور سٹے بازوں کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی طرح کسی انتخابی منڈی میں 5 کروڑ ڈالرز کے داؤ کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم کسی ایک امیدوار کی کامیابی پر لگائی گئی ہے، اس میں مختلف امیدواروں کے حق اور مخالفت میں لگنے والی شرطیں اور ایک ہی معاہدے کی بار بار خرید و فروخت بھی شامل ہوتی ہے۔

امریکی سیاسی سٹے بازی میں اضافے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پیش گوئیوں کی یہ منڈیاں مختلف معلومات اور سیاسی توقعات کو یکجا کر کے انتخابی صورتِ حال کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے بڑے سرمایہ کاروں کا اثر بڑھتا ہے اور جمہوری عمل نفع و نقصان کے کھیل میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔

کیلشی امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور ان سرگرمیوں کو جوئے کے بجائے انتخابی نتائج سے منسلک مالیاتی معاہدوں کی خرید و فروخت قرار دیتا ہے۔

3 نومبر کو انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد درست اندازہ لگانے والے سٹے باز منافع کمائیں گے جبکہ غلط پیش گوئی کرنے والوں کو اپنی رقم سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، یوں امریکی انتخابات میں امیدواروں کے ساتھ ساتھ کروڑوں ڈالرز داؤ پر لگانے والے جواریوں کے لیے بھی ہار اور جیت کا فیصلہ ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ