جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایبولا وائرس جلد ہی عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے، ماہر صحت کی وارننگ

تازہ ترین
ایبولا وائرس جلد ہی عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے، ماہر صحت کی وارننگ

تصویر سوشل میڈیا۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس جلد ہی عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے یورپ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

واضح رہے کہ ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

یہ وائرس مئی میں جمہوریہ کانگو میں سامنے آیا تھا اور اب تک زیادہ تر یوگنڈا، کینیا اور نائیجیریا سمیت افریقی ممالک تک محدود ہے۔ ڈاکٹر کاسیا کا کہنا ہے کہ اس وبا کا جغرافیائی پھیلاؤ غیر معمولی ہے اور دنیا بھر کے صحت حکام کو اس سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم تمام ممالک کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے مناسب اقدامات نہ کیے تو وہ محفوظ نہیں رہیں گے۔

افریقی خطے ہی نہیں بلکہ تمام براعظموں کے ممالک کو اب اپنی تیاریوں اور مریضوں کے علاج کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انھوں نے موجودہ صورت حال کا موازنہ کورونا وائرس کی وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ کورونا پھیلنے سے پہلے بھی کئی ممالک یہ سمجھتے تھے کہ وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے، ہم نہیں چاہتے کہ برطانیہ اور دوسرے ممالک بھی ایبولا کے بڑے مراکز بن جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں یہ وائرس پہنچنے کے بعد کئی ہفتوں تک اس کی تشخیص نہ ہونے کا خطرہ موجود ہے اور ڈاکٹر کاسیا کی تشویش بجا ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے پروفیسر برائے طب ڈاکٹر پال ہنٹر کے مطابق اس وبا کے دوران یورپ میں پہلے ہی کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

پروفیسر ہنٹر کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے کسی متاثرہ شخص کے ذریعے کسی بھی وقت وائرس کی منتقلی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسا ہونا نسبتاً کم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایبولا اتنی آسانی سے نہیں پھیلتا اور عموماً اس کے لیے کسی متاثرہ شخص یا اس کے جسمانی سیال مادوں سے قریبی رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ جس مریض کی حالت خراب ہو اور وہ قریب المرگ ہو تو اس سے وائرس کی منتقلی کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج میں وائرس جینومکس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شارلٹ ہولڈکرافٹ نے کہا کہ ایبولا خاموشی سے برطانیہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس سے متاثرہ مسافروں میں علامات ظاہر ہونے سے پہلے تین ہفتوں تک وائرس موجود رہ سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر برائے انفیکشن اینڈ امیونٹی سر اینڈریو پولارڈ نے بھی کہا کہ ڈاکٹر کاسیا کی یہ بات درست ہے کہ تمام ممالک کو اس صورت حال پر تشویش ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے بھی ڈاکٹر ہولڈکرافٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں ایبولا کے مریضوں کی شناخت کے لیے مناسب سہولیات اور صلاحیت موجود ہے۔

ڈاکٹر کاسیا کی جانب سے یہ سخت وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ایک سوئس خاتون نائیجیریا میں ایبولا وائرس سے متاثر ہوئی تھی۔ مغربی افریقہ میں علاج کے بعد اسے مزید علاج کے لیے جنیوا منتقل کر دیا گیا۔

ایبولا کی موجودہ وبا ایک نایاب قسم کی وجہ سے پھیلی ہے جسے بنڈی بگیو کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے شکار مریضوں میں سے 50 فیصد تک کی جان لے سکتا ہے۔ ایبولا وائرس کی تمام اقسام میں علامات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔

بیماری فلو جیسی علامات سے شروع ہوتی ہے، جن میں بخار، سر اور پٹھوں میں درد، الٹی و اسہال شامل ہیں۔ بعد ازاں جسم کے اندرونی حصوں میں خون بہنے، اعضا کے ناکارہ ہونے اور کئی صورتوں میں موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ