پژمان نوزاد: کار واش اور ایرانی قالین بیچنے سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تک کا سفر

پژمان نوزاد

،تصویر کا ذریعہPEJMAN NOZAD

سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک ایسے ایرانی شخص کا نام حال ہی میں مقبول ہوا ہے جن کا غربت سے امارت تک کا سفر تہران سے شروع ہوا۔

فٹ بال سے محبت کرنے والے پژمان نوزاد کو فوربز میگزین نے 2023 کی اس فہرست میں شامل کیا ہے جس میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ابھرتی ہوئی کمپنیوں کے سرمایہ کاروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ہر سال فوربز ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے متعلق تمام ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے اور ان کمپنیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کی سرمایہ کاری کی قدر کا جائزہ لیتا ہے۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا طویل عرصے تک سونا تلاش کرنے والوں کی منزل رہی۔ ان میں سے بہت سے ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے سونا کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ لیکن ان تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے اس خطے میں زندگی کو پروان چڑھایا اور اب یہ ریاست نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے سب سے بڑے اقتصادی مراکز میں سے ایک ہے۔

شاید یہ حیرت کی بات نہیں کہ فوربز کی جانب سے شائع ہونے والی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سب سے کامیاب سرمایہ کاروں کی فہرست کا نام ’مڈاس‘ ہے۔ مڈاس ایک یونانی دیوتا تھا جس کے متعلق مشہور ہوا کہ وہ کسی بھی چیز کو سونے میں بدل سکتا تھا۔

پژمان نوزاد، بھی ایسی ہی مہارت رکھتے ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں میں جن کمپنیوں میں وہ سرمایہ کاری کر چکے ہیں ان کی مجموعی مالیت 50 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

پژمان نوزاد

،تصویر کا ذریعہPEJMAN NOZAD

کمپیوٹر فائل سٹوریج اور شیئرنگ کی خدمات فراہم کرنے والی ’ڈراپ باکس‘ کمپنی کافی عرصے سے سٹاک مارکیٹ میں کامیاب کارکردگی دکھا رہی ہے۔ ڈراپ باکس کا آغاز پژمان نوزاد نے ایک اور ایرانی عرش فردوسی کے ساتھ مل کر کیا تھا۔

اسی طرح ’ساوئنڈ ہاوئنڈ‘ ہے جس پر پژمان نے کیوان مہاجر کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ ساؤنڈ ہاؤنڈ ایپ آپ کو اپنی پسندیدہ موسیقی تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔

’گارڈنٹ ہیلتھ‘ کمپنی، جو کینسر کے علاج کے لیے طبی دنیا میں سرفہرست ہے، بھی ان منصوبوں میں سے ایک ہے جسے پژمان نوزاد نے ڈاکٹر امیر علی نامی ایک اور ایرانی کے ساتھ مل کر شروع کی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں شمالی کیلیفورنیا میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایرانیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پژمان نوزاد بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ’اب ایرانیوں نے خود کو یہاں قائم کر لیا ہے اور ان کے نام مانوس ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ایران دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کے اہم مراکز میں سے ایک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران ٹیکنالوجی کے شعبے میں انسانی وسائل کے لحاظ سے بہترین ہے اور اگر اس کے کام کے ماحول اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے بہتر حالات ہوتے تو یہ اپنے اور دنیا کے لیے زیادہ منافع بخش ہو سکتا تھا۔‘

ان کے مطابق ’ایرانی یونیورسٹیوں اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں اعلیٰ صلاحیتیں ہیں، لیکن چونکہ ان کو مثالی حالات فراہم نہیں کیے جاتے، ان میں سے اکثر ایران چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔‘

پژمان نوزاد

،تصویر کا ذریعہPEJMAN NOZAD

’کیلیفورنیا میں آج بھی مجھ سے بہتر کار کوئی نہیں دھو سکتا‘

بیرون ملک رہنے والے کچھ ایرانیوں کے برعکس، جو اپنے سابق ہم وطنوں کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی نہیں رکھتے، پژمان نوزاد مختلف انداز میں سوچتے ہیں۔

ان کے نزدیک ایسے نکات کے بارے میں بات چیت جو مشترکہ ہوتے ہیں، جیسا کہ روایتی پکوانوں کے بارے میں بات کرنا یا ایک ساتھ چائے پینا، ہمیشہ دو ایرانیوں کے درمیان ایک نئے رشتے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اسی تعلق میں ان کی کامیابی کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔

پژمان امریکہ پہنچنے کی کہانی سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایران سے جرمنی پہنچنے کے بعد ان کے بھائی نے کئی بار امریکی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

ایک بار ان کے بھائی ان کو امریکی سفارت خانے لے گئے جہاں پژمان کو امریکی ویزا مل گیا۔

لیکن جب وہ پہلی بار امریکہ پہنچے تو ان کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے اور نہ ہی کوئی کام۔ لیکن فٹ بال کے کھلاڑیوں سے واقفیت ان کے کام آئی۔

ایک زمانے میں تہران کے امجدیہ شیرودی سٹیڈیم میں گیند جمع کرنے والے پژمان کو بچپن سے ہی فٹ بال پسند تھا۔ ایران میں وہ فٹ بال کے بارے میں ایک ریڈیو پروگرام چلاتے تھے۔ اس سے پہلے انھوں نے سپورٹس اخبارات میں کئی برسوں تک سپورٹس رپورٹر کے طور پر کام کیا۔ انھوں نے بطور رپورٹر تین فٹ بال ورلڈ کپ کور کیے۔

پژمان نوزاد نے کچھ عرصہ تک ایک مقامی ٹیم کے لیے بھی کھیلا اور اس ٹیم کے ساتھ دو بار مقامی کلبوں کے چیمپئن بنے۔

پژمان نوزاد

،تصویر کا ذریعہPEJMAN NOZAD

کیلیفورنیا میں ان کو ایسے ایرانی افراد ملے جن کا ماضی میں فٹ بال سے تعلق رہا تھا۔ ایسے ہی ایک سابق کوچ اصغر شریفی کی مدد سے ان کو اپنی پہلی ملازمت مل گئی۔

یہ گاڑیاں دھونے کا کام تھا۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’میں شرط لگا سکتا ہوں کہ کیلیفورنیا میں اب بھی مجھ سے بہتر کار کوئی نہیں دھو سکتا۔‘

اس کے بعد انھوں نے کچھ وقت ایک سپر مارکیٹ میں کام کیا۔ جلد ہی ان کو ایک قالین کی دکان میں نوکری مل گئی اور یہی سے ان کی کامیابی کے سفر کا اصل آغاز ہوا۔

پژمان نے خود کو ایک بہترین سیلز مین ثابت کیا اور اسی دوران کیلیفورنیا کے کامیاب ایرانی افراد سے بھی ان کی واقفیت پیدا ہوئی۔

ان کو پرتعیش پارٹیوں میں مدعو کیا جاتا جس کی وجہ ان کی دلچسپ شخصیت بھی تھی۔ پژمان نوزاد نے محسوس کیا کہ سان فرانسسکو کے امیر لوگ ایرانی اور قدیم قالین خریدنے کے علاوہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا بھی پسند کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پژمان نوزاد

،تصویر کا ذریعہPEJMAN NOZAD

انھوں نے اپنی دکان کے مالک کو قائل کیا کہ وہ بھی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔ لیکن ابتدا میں ٹیکنالوجی سے ناواقف پژمان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کو کمپیوٹر پروگرامنگ کی ایک سطر کا بھی علم نہیں تھا۔ لیکن پژمان کی مہارت لوگوں کی شخصیت کو پڑھنا اور ان سے تعلق بنانا تھا۔

انھوں نے مصنوعات پر توجہ دینے کے بجائے اشخاص کی صلاحیتوں کو پہچاننے کی کوشش کی اور رفتہ رفتہ سرمایہ کاری کی دنیا میں ان کا نام بنتا چلا گیا۔ اب ان کا نام امریکہ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بہترین سرمایہ کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ اس مقام پر پہنچنے کے بعد وہ مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں تو پژمان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ایک بہتر دنیا کی تعمیر میں مدد کرنا ہے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔

حال ہی میں انھوں نے ایک نئے پراجیکٹ کے لیے 432 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا بندوبست کیا۔

ان تمام برسوں کے دوران فٹ بال سے ان کی محبت برقرار رہی۔ وہ خود بھی ایرانی فٹبال سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں اور اپنے سرمایہ کاروں کو بھی اس کی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ