بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

وہ اچھوتا خیال جس نے 27 سالہ نوجوان کو دو سال میں ارب پتی بنا دیا

جونی بوفرحت کی کمپنی ہوپ ان: وہ اچھوتا خیال جس نے 27 سالہ نوجوان کو دو سال میں ارب پتی بنا دیا

بوفرحت

جونی بوفرحت نے صرف دو برس میں ’ہوپ ان‘ نامی اپنے آن لائن کانفرنس ہوسٹنگ پلیٹ فارم کو ایک ایسی کمپنی میں بدل دیا ہے جس کی قدر چار ارب پاونڈ تک پہنچ گئی ہے۔

برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ کی امیر ترین افراد کی فہرست کے مطابق 27 سالہ جونی بوفرحت اپنے بل بوتے پر ارب پتی بننے والے برطانیہ کے کم عمر ترین دولت مند ہیں۔

جونی بوفرحت کی کمپنی میں حالیہ دنوں میں نجی سرمایہ کاروں نے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس کے بعد کمپنی کی قدر کا تخمینہ چار ارب پاونڈ لگایا گیا ہے۔ لیکن جونی بوفرحت اپنے مختلف انداز میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔

جونی بوفرحت نے سپین کے شہر بارسلونا سے بتایا کہ ’ان کی کمپنی مکمل طور پر ’ریموٹ‘ ہے یعنی انٹرنیٹ سے چلائی جاتی ہے اس کی وجہ سے انھیں دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں مختلف انداز سے کام کرنے کی آزادی یا گنجائش حاصل ہے۔‘

اس کمپنی کا کوئی مستقل دفتر نہیں ہے اور بالکل اسی طرح اس کے مالک کی بھی کوئی مستقل رہائش گاہ نہیں ہے۔

وہ ایک ڈیجیٹل خانہ بدوش یا آوارہ گرد ہیں جو کرائے کے ایک مکان سے کرائے کے دوسرے مکان میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور جہاں کہیں بھی ہوں اپنا دھندا یا کاروبار وہیں سے چلاتے ہیں۔

ہوپ ان

بوفرحت نے کہا کہ 10 سال پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس وقت سافٹ ویئر اتنا اچھا نہیں تھا اور ای میل بھیجنا اور وصول کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی نظریاتی فیصلہ نہیں تھا لیکن ’ریموٹ ورکنگ‘ یا دفاتر سے دور رہ کر کام کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوا اور کمپنی نے بہت تیزی سے ترقی کی۔

یہ بھی پڑھیے

بیماری مجھے ایک مختلف انسان بنا دیا

ان کی ذاتی کہانی بہت متاثر کن ہے۔ ہوپ ان بنانے کا خیال انھیں بیماری کے دوران آیا۔ ان کا کنبہ لبنان سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن ان کی پرورش آسٹریلیا میں ہوئی جہاں سے نقل مکانی کر کے ان کا خاندان ان کی نوعمری ہی میں برطانیہ میں آ کر آباد ہو گیا۔

وہ سنہ 2015 میں مکینکل انجینیئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ جنوب مشرقی ایشیا کے سفر پر نکل پڑے۔ لیکن اس سفر کے دوران وہ بیمار ہو گئے اور بعد میں کئی ماہ تک لندن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ بوفرحت نے کہا کہ اس بیماری نے انھیں تبدیل کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر سے نہیں نکل سکتے تھے اور ایک سال بعد ان کی طبیعت بحال ہونا شروع ہوئی۔

اسی دوران انھیں احساس ہوا کہ وہ کسی حد تک آن لائن پر اپنے سماجی رابطے بحال رکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے آن لائن پر عارضی کام شروع کیے تاکہ وہ کچھ نہ کچھ گزارا کر سکیں۔

بوفرحت نے کہا کہ وہ انٹرنیٹ پر ویبینار اور کانفرنسوں میں حصہ لیتے تھے۔ بوفرحت کہتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک ویبینار میں بعض اوقات ایک ہزار کے قریب لوگوں بھی شامل ہوتے تھے لیکن ایک وقت میں صرف دو افراد ہی بات کر سکتے تھے اور یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کون کون اس ویبینار میں شریک ہے۔

انھوں نے اس کا حل یہ نکلا کہ انھوں نے ’ہوپ ان‘ نامی کپمنی بنائی جس کا مقصد لوگوں کو بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ اس کے ذریعے وہ ویبینار میں موجود دوسرے شرکاء سے میسیجنگ اور آن لائن بریک آؤٹ روم میں رابطہ کر سکتے تھے۔

بوفرحت

،تصویر کا ذریعہAnna hux

درست وقت

ہوپ ان کمپنی سنہ 2019 میں صرف چھ ملازمین کے ساتھ شروع کی گئی تھی لیکن عالمی وباء کے دوران اس نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی کیونکہ لاک ڈاؤن کے دوران ‘کانفرنس’ کرنے کی صنعت متاثر ہوئی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہوپ ان کمپنی نے ایک متبادل پیش کیا۔ زوم کی طرح یہ صحیح وقت پر صحیح ٹیکنالوجی تھی۔

اس پلیٹ فارم نے سنہ 2020 سے 80 ہزار کے قریب اجلاس منعقد کروائے جن میں اقوام متحدہ، نیٹو، سلیک اور یونی لیور جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے اور کمپنیاں شامل تھیں۔

ریموٹ ورکنگ کے طریقے سے اس کمپنی کو اتنی جلد اتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ فوری طور پر اس کو بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

مستقبل میں بہت سی ایسی کمپنیاں بالکل اسی انداز میں شروع کی جا سکتی ہیں۔

ہر ماہ ہوپ ان کے اپنے ہی پلیٹ فارم پر ‘ٹاؤن ہال’ کے نام سے ویڈیو میٹنگ کی جاتی ہے جس میں پانچ سو ملازمین شریک ہوتے ہیں اور جسے بوفرحت کہتے ہیں یہ ایک ٹی وی شو کی طرح ہے۔

بات جب دفتر سے دور رہ کر کام کرنے کی عملیت پر آتی ہے تو ہوپ ان ‘کلاؤڈ’ پر چلنے والے سافٹ ویئر کا فائدہ اٹھاتی ہے جن میں مائیکروسافٹ ٹیمز، سلیک، ویڈیو میسجنگ پلیٹ فارم لوم، فگما اور نوشن شامل ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.