بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

’میں نے کھانا بنانے کے لیے چاقو خریدا، قتل کرنے کے لیے نہیں‘، ملزم کا عدالت میں بیان

وقاص گورایہ: ’میں نے کھانا بنانے کے لیے چاقو خریدا، قتل کرنے کے لیے نہیں‘، ملزم کا عدالت میں بیان

  • رفاقت علی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

احمد وقاص گورایہ
،تصویر کا کیپشن

احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں لندن میں مقدمہ چل رہا ہے

ایک برطانوی شخص جس کے خلاف نیدرلینڈز میں مقیم ایک پاکستانی بلاگر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے، نے جمعے کے روز عدالت کو بتایا کہ اس نے روٹرڈیم میں ہوٹل کے کمرے میں اپنا کھانا تیار کرنے کے لیے چھری خریدی تھی کیونکہ کورونا کی وبا کے دوران ہوٹل کی انتظامیہ صرف پلاسٹک کی کٹلری مہیا کر رہی تھی۔

محمد گوہر خان پر الزام ہے کہ نیدرلینڈز میں مقیم بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے لیے بطور اجرتی قاتل اُن کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔

ملزم نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

اکتیس سالہ ممحد گوہر مسلسل تین روز سے کٹہرے میں کھڑے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ ملزم کا کہنا تھا کہ وہ پیرس سے بس کے ذریعے روٹرڈیم پہنچے۔

ملزم نے کئی بار اپنا یہ بیان دہرایا کہ اُن کا بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اُنھوں نے نیدرلینڈز کا سفر مسٹر مزمل سے رقم حاصل کرنے کے لیے کیا تھا جنھوں نے اُن کا کارگو کا کاروبار تباہ کر دیا تھا۔

ملزم نے کہا کہ اُنھوں نے بلاگر کے رہائشی علاقے کی ویڈیوز ان لیے بنائیں تاکہ وہ مزمل (مسٹر مڈز) کو یقین دلا سکیں کہ اُنھوں نے وہاں تک کا سفر کیا ہے اور اضافی رقم کا مطالبہ کیا جا سکے۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ مسٹر مزمل کے ساتھ اپنے نام کے علاوہ دو فرضی ناموں، مسٹر مش (مشتاق) اور مسٹر جی کے ناموں سے بات کر رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں موجود مسٹر مزمل کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ایک ٹیم کے ساتھ روٹرڈیم پہنچے ہیں۔ درحقیقت وہ اکیلے ہی وہاں گئے تھے۔

ملزم نے عدالت کو بتایا کہ روٹرڈیم جانے سے پہلے اُنھوں نے ہنڈی کے ذریعے پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈ وصول کیے تھے۔

ملزم گوہر خان نے کہا کہ اُنھوں نے کرنسی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کا بہانہ بنا کر مسٹر مزمل کو کہا کہ اُنھیں پانچ ہزار پاؤنڈ سے 188 پونڈ کم ملے ہیں لہٰذا وہ انھیں مزید 25 ہزار پاکستانی روپے ادا کریں۔

ملزم نے کہا کہ جب وہ روٹرڈیم پہنچے تو اُنھوں نے ایک بار اوبر ٹیکسی اور ایک بار خود ہی اس علاقے کا دورہ کیا جہاں انھیں بتایا گیا تھا کہ احمد وقاص گورایہ رہائش پذیر ہیں۔

روٹرڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

روٹرڈیم شہر، نیدرلینڈز (فائل فوٹو)

عدالتی کارروائی کے دوران ملزم گوہر خان نے کہا کہ اُنھوں نے کبھی بھی پراجیکٹ کے مکمل پر ہونے پر ملنے والی مکمل رقم حاصل کرنے کا سوچا نہیں تھا کیونکہ ان کا وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ملزم نے کہا کہ ان کا ارادہ تھا کہ 15 سے 20 ہزار پاؤنڈ حاصل کر کے وہ اس پراجیکٹ کو چھوڑ دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں مسٹر مزمل کو ملزم کی مالی پریشانیوں کا کیسے علم ہوا تھا، تو ملزم گوہر خان نے کہا کہ جب ان کا بزنس تباہ ہوا تو مسٹر مزمل ان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

جب ملزم سے پوچھا گیا کہ وہ ایسے شخص سے کیوں رابطے میں تھے جس نے ان کے دعوے کے مطابق ان کے کاروبار کو تباہ کر دیا تھا تو ملزم کا کہنا تھا کہ ان کا مسٹر مزمل سے زیادہ رابطہ نہیں تھا اور صرف عید اور رمضان کے مواقعوں پر مبارک باد کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا تھا۔

ملزم گوہر خان نے کہا ان کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بھی خیال تھا کہ شاید مزمل کو کسی روز احساس ہو جائے کہ اُنھوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے اور اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرے۔

ملزم گوہر خان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کے خیال میں مسٹر مزمل کے پاس 50 ہزار پاؤنڈ تھے کیونکہ وہ اس معاہدے میں ضامن تھے۔ اس معاہدے کی رو سے 50 ہزار پاؤنڈ پہلے ادا کیے جانے تھے جو ضامن کے پاس رہیں گے جبکہ بقیہ 50 ہزار پراجیکٹ مکمل ہونے پر ادا کیے جانے تھے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے 13 جون 2021 کو بذریعہ ہوائی جہاز نیدرلینڈز پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ وہ ہوائی جہاز کے سفر کے دوران اپنے ہمراہ کوئی سامان کیوں نہیں لے کر گئے تھے، ملزم گوہر خان نے کہا کہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ انھیں ایئرپورٹ سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا کیونکہ کووڈ کی وبا کے دوران صرف یورپی اور مقامی باشندوں کو ہی نیدرلینڈز میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ملزم گوہر نے کہا کہ اُنھوں نے یہ سفر صرف مسٹر مزمل اور مسٹر زیڈ کو یہ دکھانے کے لیے کیا تھا کہ وہ پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں اور انھیں مزید رقم کی ضرورت ہے۔

ملزم گوہر خان نے کہا وہ سفر پر اٹھنے والے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے تھے تاکہ وہ اضافی رقم کا تقاضا کر سکیں۔ ملزم نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسٹر مزمل کو بتا رہے تھے کہ کووڈ کے ایک پی سی آر ٹیسٹ پر 500 پاؤنڈ لاگت آتی ہے اور وہ چھ لوگوں کی ٹیم کے ساتھ نیدرلینڈز جا رہے ہیں اور ان پر 3000 ہزار پاؤنڈ کا خرچ آئے گا۔

ملزم گوہر نے کہا کہ حقیقت میں پی سی آر ٹیسٹ پر 135 پاؤنڈ خرچ ہوتا تھا اور فرانس میں یہ بالکل مفت تھا جہاں سے اُنھوں نے دو پی سی آر ٹیسٹ کروائے تھے۔ ملزم نے کہا کہ ان کے ہمراہ کوئی ٹیم نہیں تھی اور وہ اکیلے ہی سفر کر رہے تھے۔

عدالت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عدالتی کارروائی کے دوران ملزم سے پوچھا گیا کہ وہ اسلام کے کس مسلک اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملزم نے کہا کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ سنی ہیں لیکن وہ سنی مسلک کے مزید فرقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔

ملزم سے اس سکول کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا جہاں انھیں بچپن میں والدین نے تعلیم کے لیے بھیجا تھا۔ ملزم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مذہبی سکول تھا تو اُنھوں نے کہا کہ نہیں۔

ملزم گوہر خان نے کہا کہ لاہور میں شریف کمپلیکس کے نام سے انگلش میڈیم سکول تھا جہاں وہ زیر تعلیم رہے تھے۔ اس سکول سے انھیں او لیول کا امتحان پاس کرنا تھا لیکن زبان کی مشکلات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔

ملزم گوہر خان نے عدالت کو بتایا کہ وہ پیرس سے بس کے ذریعے روٹرڈیم پہنچے اور وہاں اُنھوں نے کار کرائے پر حاصل کی۔ ملزم سے پوچھا گیا کہ اُنھوں نے روٹرڈیم میں کرائے پر کار کیوں حاصل کی، تو ان کا جواب تھا کہ وہ آزادی کے ساتھ وہاں گھومنا چاہتے تھے۔

ملزم نے کہا کہ اُنھوں نے تقریباً تمام بل اپنے کریڈٹ کارڈ سے ادا کیے۔ ملزم نے کہا اگر اُن کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ ہوتا تو نہ تو وہ اپنے پاسپورٹ پر سفر کرتے اور نہ ہی اپنے کارڈز سے بلز ادا کرتے۔

ملزم گوہر خان نے کہا کہ جب اُنھوں نے مسٹر مش کے طور مسٹر مزمل سے ممکنہ ہدف اور ان کے علاقے کے بارے میں مزید معلومات مانگیں تو مسٹر مزمل نے کہا کہ ’کیا چاہتے ہو میں تمھیں وقاص گورایہ کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے کی معلومات فراہم کروں؟‘ ملزم نے کہا کہ میں نے بطور مسٹر مش جواب دیا کہ ’طنز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ملزم گوہر خان نے کہا کہ وہ جب کرائے پر حاصل کردہ گاڑی میں وقاص گورایہ کے رہائشی علاقے میں بیٹھے تھے تو قریب ہی پارک ایک گاڑی میں دو افراد بیٹھے تھے جس سے وہ گھبرا گئے اور وہاں سے دور کسی اور علاقے میں چلے گئے اور دیر تک کار میں ہی بیٹھے رہے۔

ملزم گوہر خان کا بیان جاری تھا کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔

مقدمے کی کارروائی پیر کے روز پھر شروع ہو گی۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.