ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پر 16 کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ خرچہ آیا

queen funeral

،تصویر کا ذریعہReuters

  • مصنف, چارلی ایڈمز
  • عہدہ, بی بی سی نیوز

برطانیہ کی وزارتِ خزانہ نے بتایا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات اور سوگ کے دوران ہونے والی دیگر تقریبات پر حکومت کو تقریباً 16 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ تک کے اخراجات آئے۔

ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات ان کی وفات کے 11 روز بعد 19 ستمبر 2022 کو ادا کی گئی تھیں۔

اس دورانیے میں میں ہزاروں افراد نے ویسٹ منسٹر ایبے جا کر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے سات کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈ جبکہ محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل نے پانچ کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ خرچ کیے۔

حکومتی محکموں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات ملکہ کی آخری رسومات اور اس سے قبل دیگر تقریبات کی مد میں آئے۔

وزارتِ خزانہ کے چیف سیکریٹری جان گلین کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت کی ترجیح یہی تھی کہ ’تمام تقریبات پرسکون انداز میں ہوں اور انھیں پروقار انداز میں کیا جائے جبکہ ساتھ ہی عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔‘

پارلیمان میں جمع کروائے گئے بیان میں جان گلین کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے جہاں تک ہو سکتا تھا اضافہ فنڈنگ بھی دی اور سکاٹس، ویلش اور شمالی آئرلینڈ کی حکومتوں کو اخراجات کی مکمل واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔

اس حوالے سے آنے والے اخراجات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

محکمہ ثقافت، میڈیا اور کھیل 57.42 ملین پاؤنڈ

محکمہ ٹرانسپورٹ 2.565 ملین پاؤنڈ

محکمہ خارجہ، کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ 2.096 ملین پاؤنڈ

محکمہ داخلہ 73.68 ملین پاؤنڈ

محکمہ دفاع 2.890 ملین پاؤنڈ

شمالی آئرلینڈ آفس 2.134 ملین پاؤنڈ

سکاٹش حکومت 18.756 ملین پاونڈ

ویلش حکومت 2.202 ملین پاؤنڈ

مجموعی اخراجات 161.743 ملین پاؤنڈ

queen

،تصویر کا ذریعہReuters

برطانیہ میں ملکہ الزبتھ دوم کی 96 برس کی عمر میں وفات کے بعد 10 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

ملکہ کے تابوت کو ایڈنبرا میں سینٹ جائلز کیتھیڈرل میں 24 گھنٹے کے لیے رکھا گیا تھا جس کے بعد اسے لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے میں لے جایا گیا تھا، جہاں ہزاروں سوگواران نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

فٹبالر ڈیوڈ بیکم سمیت لندن میں ہزاروں افراد دن کے ہر گھنٹے میں سخت ٹھنڈ میں بھی ویسٹ منسٹر ایبے کے باہر جمع ہوتے رہے۔

کئی مرتبہ انتظار کا دورانیہ 24 گھنٹے سے بھی زیادہ تھا اور قطار 11 کلومیٹر طویل۔ ریاست کی جانب سے کیے گئے آخری رسومات کے انتظامات نے پولیس کو ’برطانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن‘ کرنے پر مجبور کیا۔

دنیا بھر کے رہنماؤں اور غیرملکی شاہی خاندان ویسٹ منسٹر ایبے میں آخری رسومات کے لیے برطانوی شاہی خاندان کا ساتھ دینے کے لیے شریف ہوئے۔

اس دوران امریکی صدر جو بائیڈن، اس وقت کی برطانوی وزیرِ اعظم لز ٹرس ان دو ہزار افراد میں شامل تھے جو وہاں موجود تھے۔

اس کے لیے ان رسومات کو کروڑوں افراد نے برطانیہ اور دنیا بھر میں اپنی ٹی وی سکرینز پر دیکھا۔ یہ سر ونسٹن چرچل کی 1965 میں وفات کے بعد سے ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی پہلا جنازہ تھا۔

بکنگھم پیلس کے مطابق اس دوران آنے والے اخراجات ان تقریبات کو اچھے انداز میں تکمیل تک پہنچانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش تھی کہ برطانیہ اور دنیا بھر سے افراد محفوظ انداز میں اس میں شریک ہو سکیں۔

حکومتی ترجمان کے مطابق ’ظاہر ہے یہ بین الاقوامی حیثیت کی حامل تقریب تھی اور ہم چاہتے تھے کہ لوگ آ کر خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ