مصنوعی ذہانت کی برتری کا خوف: ’بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں عوام کو خطرات سے محفوظ رکھیں‘

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, جیمز کلیٹن، لوسی ہوکر اور ڈینیئل تھومس
  • عہدہ, بی بی سی نیوز

ایک ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی انسانی رویوں کی نقل کرنا سیکھ رہی ہے، دنیا بھر میں اس خدشے میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اس تیز رفتار ترقی سے نئے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں جن میں نوکریوں میں کمی اور غلط معلومات میں اضافہ شامل ہیں۔

ان خدشات کی ہی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں متحرک ہو چکی ہیں۔

امریکہ میں ٹیکنالوجی انڈسٹری کے بڑے ناموں کو وائٹ ہاوس بلا کر عام لوگوں کو مصنوعی ذہانت سے محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی تو برطانیہ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مارکیٹ قوانین پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جعمرات کو امریکہ میں وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے گوگل کے سندر پچائی، مائیکروسوفٹ کی ستیا ندیلا اور اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین کو بلا کر کہا کہ ان پر معاشرے کو محفوظ بنانے کی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

وائٹ ہاوس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سیکٹر پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور بارڈ سمیت نئی مصنوعات نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں انقلاب برپا کر دیا ہے جن کی مدد سے سیکنڈز میں معلومات جمع کی جا سکتی ہیں، کمپیوٹر کوڈ نکالے جا سکتے ہیں، حتیٰ کے شاعری تک لکھی جا سکتی ہے اور ان سب پر یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ سب ایک کمپیوٹر کی مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیا گیا ہے۔

ان مصنوعات نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے فوائد کیا ہیں اور ممکنہ مضمر اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔

بدھ کے دن امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سربراہ لینا خان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

ان خدشات میں سے ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اے آئی کاپی رائٹ قوانین کو روند کر رکھ دے گی جبکہ آواز کی کلوننگ سے فراڈ کے واقعات میں اضافہ ہونے کا امکان بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز سے جھوٹی خبریں پھیلائی جا سکتی ہیں۔

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں جمع ہونے والے ٹیکنالوجی ایگزیکٹیو کو بتایا گیا کہ ان کی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی سکیورٹی یقینی بنائیں۔ ان کو خبردار کیا گیا کہ امریکی انتظامیہ اس شعبے پر نئے قوائد و ضوابط لاگو کرنے کے لیے تیار ہے۔

چیٹ جی پی ٹی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹمین نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ ’تمام سربراہان حیران کن حد تک اس معاملے پر ایک صفحے پر ہیں کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اس ملاقات کے بعد امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’نئی ٹیکنالوجی پرائویسی، سیفٹی اور سول حقوق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے تاہم یہ زندگیاں بچا بھی سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نجی سیکٹر پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی سیفٹی اور سکیورٹی یقینی بنائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وائٹ ہاؤس نے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کے لیے سات نئے مراکز کا آغاز کرنے کے لیے 140 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کے ڈرامائی انقلاب کو بہتر طریقے سے ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ زور و شور سے سامنے آ رہا ہے جس میں سیاست دانوں سمیت ٹیکنالوجی کی دنیا کے سرکردہ لوگ بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں اس انڈسٹری پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے پر کوئی ایک کمپنی حاوی نہ ہو اور اس کے فوائد یکساں طور پر سب کو میسر ہوں۔

اس نظر ثانی کے دوران چیت جی پی ٹی جیسے سافت ویئرز کو بھی جانچا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مصنوعی ذہانت کے ’گاڈ فادر‘ سمجھے جانے والے جیفری ہنٹن نے اپنی نوکری سے استعفی دیتے ہوئے اس نئی ٹیکنالوجی کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔

گوگل میں اپنی نوکری کو چھوڑتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ان کو اپنے کام پر افسوس ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ باٹس کے چند خطرات کافی ڈرا دینے والے ہیں۔‘

یاد رہے کہ مارچ میں ایلون مسک اور ایپل کے بانی سٹیو وازنیاک کے دستخط شدہ خط میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو عوام تک پہنچانے کی کوششوں کو کچھ وقت کے لیے روکنے کی تجویز دی گئی تھی۔

تاہم بل گیٹس جیسے افراد جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے حامی ہیں نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے مسائل حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔

انڈسٹری کی جانب سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ سخت قوانین سے چین کی کمپنیوں کو فائدہ ہو گا جن پر یہ قوانین اثر انداز نہیں ہوں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہ