روسی تیل یورپ کو فروخت کرنے سے انڈیا کی برآمدات میں اضافہ مگر فائدہ کس کو ہوا؟

oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, دیپک منڈل
  • عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار

یورپی یونین نے گذشتہ برس روس کی یوکرین میں مداخلت کے بعد دسمبر تک روسی خام تیل پر تقریباً پابندی عائد کر دی تھی۔

دو ماہ بعد یہ پابندیاں اس کی ریفائنڈ آئل مصنوعات پر لگائی گئیں۔ پابندی سے پہلے یورپ مجموعی درآمدات میں سے تیس فیصد تیل روس سے خریدتا تھا۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ روسی تیل کی درآمد پر پابندی یورپی یونین سمیت پورے یورپ میں سپلائی کی کمی پیدا کر سکتی ہے۔

یورپ کے لیے یہ اس لیے بھی زیادہ پریشان کن بات تھی کیونکہ یہاں اکثر ممالک کو پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح کا سامنا ہے۔

تاہم تعجب کی بات یہ ہے کہ اس پابندی کے باوجود یورپ کو روسی تیل کی سپلائی جاری ہے۔ روسی تیل اب انڈیا کے راستے یورپی منڈی میں پہنچ رہا ہے۔

روس کا خام تیل براہِ راست یورپ نہ پہنچنے کی وجہ سے وہاں تیل ریفائنریز کے سامنے پیداوار کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ تاہم انڈیا کی نجی شعبے کی ریفائنریوں نے اسے یورپ میں سپلائی کر کے یہ خلا پُر کرنے کا سنہری موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری تک انڈیا سے یورپی یونین کے ممالک کو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل پانچ ماہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس ماہ یہ مقدار 19 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا سے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے میں یورپی یونین سرفہرست

یہ مالی سال 2022-23 میں انڈیا سے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے ماہانہ اعداد و شمار کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اپریل سنہ 2022 سے جنوری سنہ 2023 تک انڈیا سے یورپ کو برآمد ہونے والے ریفائنڈ پیٹرولیم کی مقدار بڑھ ایک کروڑ 16 لاکھ ٹن ہو گئی ہے۔

اس کی وجہ سے یورپی یونین ان 20 خطوں میں سرفہرست ہے جو انڈیا سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتے ہیں۔

اس دوران انڈیا کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی 15 فیصد برآمدات صرف یورپی منڈی میں کی گئیں۔ بعد میں یہ بڑھ کر 22 فیصد ہو گیا۔

بلومبرگ کی ایک خبر کے مطابق، روس کی پیٹرولیم مصنوعات پر یورپی یونین کی پابندی کے بعد، اس مارکیٹ میں انڈیا کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب وہ یہاں سب سے بڑا سپلائر بننے کے راستے پر ہے۔

امریکہ اور یورپ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے بعد بھی انڈیا بڑی مقدار میں رعایتی نرخوں پر روس سے خام تیل خرید رہا ہے۔

گذشتہ سال فروری میں شروع ہونے والی روس یوکرین جنگ سے پہلے انڈیا کی درآمدات میں روسی تیل کا حصہ صرف ایک فیصد تھا لیکن ایک سال بعد یعنی فروری سنہ 2023 میں یہ حصہ بڑھ کر 35 فیصد ہو گیا ہے۔

اس سال مارچ میں روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے بتایا تھا کہ گذشتہ ایک سال میں روس کی جانب سے انڈیا کو تیل کی فروخت میں 22 فیصد اضافہ کیا ہے۔

چین اور امریکہ کے بعد انڈیا تیل کا تیسرا بڑا خریدار ہے لیکن امریکی اور یورپی پابندیوں کے بعد جب روس نے اپنا تیل سستا کر دیا تو انڈیا کے لیے تیل کے ذخائر بڑھانے کا یہ اچھا موقع تھا۔

یہاں کی پرائیویٹ آئل ریفائنریز اب روس سے تیل کی بڑھتی ہوئی سپلائی کا فائدہ اٹھا رہی ہیں اور وہ یورپ کو اپنی بہترین مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ریفائننگ کمپنیوں کو فائدہ

انڈیا دنیا کے سب سے بڑے تیل ریفائن کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ انڈیا کی ریفائننگ کمپنیوں کی جانب سے سپلائی میں اضافے کی وجہ سے یورپی منڈی میں تیل کا بحران بعض اندازوں کے برعکس شدید نہیں ہوا۔

انڈیا خام تیل درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں سرِ فہرست ہے، لیکن انڈیا کی ریفائنریز میں تیل ریفائن کرنے کی گنجائش اس کی گھریلو طلب سے کہیں زیادہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اضافی تیل کو تیزی سے یورپی منڈی کو برآمد کیا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ سے انڈین ریفائننگ کمپنی ریلائنس اور روسی انرجی گروپ روزنیفٹ کی سٹیک کمپنی نائرا کو اچھا فائدہ مل رہا ہے۔

اگرچہ یورپی یونین نے روسی تیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن وہ انڈیا کے ذریعے بہت زیادہ تیل خرید رہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ یورپی ممالک نے روس سے سستا خام تیل خریدنے کے انڈیا کے اقدام پر ناراضی ظاہر کی تھی۔

جب دسمبر 2022 میں انڈیا آنے والی جرمن وزیر خارجہ اینیلینا بربوک نے روس سے تیل خریدنے پر انڈیا سے شکایت کی تھی تو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ گذشتہ نو مہینوں میں انڈیا نے اس کا چھٹا حصہ خریدا ہے جو یورپی یونین عموماً روس سے خریدتا ہے۔

تاہم اب یورپی ممالک کو انڈیا سے تیل درآمد کرنے میں کوئی بظاہر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا انڈیا ایک قابل اعتماد سپلائر بن کر ابھر رہا ہے؟

آئی آئی ایف ایل سیکیورٹیز میں کموڈٹیز کے نائب صدر انوج گپتا کا کہنا ہے کہ انڈیا کی اپنی خام تیل کی مانگ بہت زیادہ ہے اور اس کے پاس عموماً تیل کے ایک ماہ سے زیادہ کے ذخائر نہیں ہوتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے میں اگر انڈین ریفائننگ کمپنیاں اضافی سپلائی کا استعمال کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی برآمد میں اضافہ کر رہی ہیں تو یہ اس کے لیے بہت اچھی بات ہے۔‘

گپتا کا کہنا ہے کہ ’روسی تیل پر پابندی کے بعد یورپی یونین کے ممالک میں تیل کے بحران کے پیش نظر وہاں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

’اس سے قبل یورپی ممالک انڈیا سے زیادہ ریفائنڈ مصنوعات نہیں خریدتے تھے لیکن موجودہ بحران کے پیشِ نظر انھوں نے انڈین مصنوعات کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔‘

گپتا کہتے ہیں کہ ’یہ انڈیا کی اقتصادی صلاحیت کے لیے اچھا اشارہ ہے۔ اس کی وجہ سے انڈیا ایک قابل اعتماد سپلائر بن کر ابھرا ہے۔ انڈیا ’سپلائی چین‘ میں ایک مضبوط لنک کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے جس پر امریکہ اور یورپی ممالک بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض مغربی ممالک روس سے زیادہ تیل خریدنے پر انڈیا سے ناراض تھے تاہم اصل میں انھیں اس صورتحال سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور کئی مغربی ممالک کے لیے خوش آئند بات ہو گی کہ انڈیا کی ریفائننگ کمپنیوں کو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بدستور برقرار رہے کیونکہ اس سے یہاں کی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات مغربی مارکیٹ میں آ سکتی ہیں اور وہاں سپلائی کی صورتحال بہتر رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ یورپ اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔ خاص طور پر یورپ کے لیے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر وہاں اگر تیل کی قیمت میں اضافہ ہو تو یہ ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکہ اور یورپ کا ماننا ہے کہ تیل کی عالمی سپلائی کو کسی خلل سے بچانے کے لیے انڈین ریفائننگ کمپنیوں کی برآمدات میں اضافہ ایک اچھی علامت ہے۔

سستے روسی تیل کی وجہ سے انڈین ریفائننگ کمپنیوں کی ریفائننگ پر آنے والی لاگت میں کمی آئی ہے اور منافع کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

انوج گپتا کہتے ہیں کہ ’اس سے انڈیا کو فائدہ ہو گا۔ یہ پہلے سے مضبوط انڈین ریفائننگ انڈسٹری کو مزید طاقتور بنائے گی۔

’اس سے انڈیا مستقبل میں ایک انٹرمیڈیٹ مارکیٹ بن سکے گا اور زیادہ سے زیادہ ممالک انڈیا سے ریفائننگ پیٹرو کیمیکل مصنوعات خریدیں گے۔‘

oil

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کو اپنی ریفائننگ کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے؟

ابتدائی طور پر یورپی یونین کے ممالک میں روسی تیل پر پابندی کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں تھا۔ یہ جلد بازی کا فیصلہ تھا، یہاں تک کہ فرانس اور جی سیون سے باہر کے ممالک نے بھی اس سے اتفاق کیا تھا کہ یہ جلد بازی کا فیصلہ تھا۔

توانائی کے ماہر اروند مشرا کہتے ہیں کہ ’یورپ کو اس وقت جو سب سے بڑا بحران درپیش ہے وہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ یورپ میں بجلی کی قیمت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ آج روس کے تیل پر پابندی ہے لیکن یورپ کو روسی توانائی پر انحصار کرنا پڑے گا۔

’اس صورتحال میں اب یہ تیل براہ راست روس سے نہیں انڈیا کے راستے آ رہا ہے۔ انرجی سکیورٹی ایک ایسا موضوع ہے جس پر کوئی سیدھی لائن نہیں لی جا سکتی۔‘

انڈیا نے روس سے سستا تیل خرید کر اب تک 35 ہزار کروڑ روپے بچائے ہیں۔ دوسری طرف یہ پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے سپلائر کے طور پر بھی ابھرا ہے۔

اروند مشرا کا کہنا ہے کہ ’جنگ نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ انڈیا جو اجناس درآمد کرتا تھا، اب انھیں برآمد کر رہا ہے۔‘

انڈیا تیزی سے پیٹرول کی ’ویلیو ایڈڈ‘ مصنوعات کی فراہمی کا ایک بڑا مرکز بن رہا ہے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ انڈیا اس صورت حال کا مزید فائدہ اسی وقت اٹھا سکے گا جب وہ اپنی ریفائننگ کی صلاحیت کو مزید بڑھا کر اسے مضبوط کرے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہ