دنیا کے سب سے دور دراز جزیرے پر ملازم کی تلاش، سالانہ تنخواہ 27 ہزار پاؤنڈ مگر تازہ کھانا نہیں ملے گا

g

،تصویر کا ذریعہGetty Images

برطانیہ کے جنگلی حیات پر کام کرنے والے گروپ کو کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جو دنیا کے سب سے دور دراز جزیرے پر 13 ماہ ان کے لیے کام کر سکے۔

جزیرہ گف، جنوبی بحر اوقیانوس میں ایک برطانوی علاقہ ہے جہاں مستقل بنیادوں پر کوئی انسان نہیں بستا۔

یہ افریقی سرزمین سے تقریباً 1500 میل (2400 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کوئی ہوائی اڈہ موجود نہیں ہے اور یہاں پہنچنے کے لیے جنوبی افریقہ سے کشتی پر سات دن کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

ربیکا گڈ ول اور لوسی ڈورمین یہ سفر مکمل کر چکی ہیں اور فی الحال دونوں اس جزیرے پر کام کر رہی ہیں۔

وہ یہاں کے سات کل وقتی ملازمین میں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اس جزیرے پر 80 لاکھ پرندے بستے ہیں۔

Antje Steinfurth

،تصویر کا ذریعہAntje Steinfurth

ربیکا اور لوسی سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز (آر ایس پی بی) کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس جزیرے پر کام شروع کرنے سے پہلے لوسی نے انٹارکٹیکا میں کام کیا جبکہ ربیکا نے سکاٹ لینڈ میں آر ایس پی بی کے لیے کام کیا ہے۔

ربیکا کو ستمبر میں اس جزیرے پر ایک سال ہو جائے گا، اس لیے آر ایس پی بی ایک نئے فیلڈ آفیسر کی تلاش میں ہے جس کی تنخواہ سالانہ 25 ہزار پاؤنڈ سے 27 ہزار پاؤنڈ تک ہو گی۔

اس کام میں اکثر کئی گھنٹوں تک سمندری پرندوں کی انواع کو ٹریک کرنا ہو گا اور امیدواروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مشکل ماحول میں رچ بس جائیں۔

امیدواروں کے پاس ’متعلقہ مضمون میں سائنس کی ڈگری یا مساوی تجربے‘ کے ساتھ ساتھ ’جنگلی پرندوں/جانوروں کو سنبھالنے اور فیلڈ میں نگرانی کا تجربہ‘ بھی ہونا چاہیے۔

ربیکا اور لوسی متنبہ کرتی ہیں کہ نئے ملازمین کو سخت موسم کا مقابلہ بھی کرنا پڑے گا اور ایک سال تک تازہ خوراک کے بغیر رہنا پڑے گا۔

لوسی کہتی ہیں ’ہم برطانوی ہیں، لہذا میں اور ربیکا سوچتے تھے کہ ہم بارش کے عادی تھے لیکن یہاں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’ہم جنوبی بحر اوقیانوس کے وسط میں ایک چھوٹی سی چٹان پر موجود ہیں اسی لیے یہاں کے موسموں میں شدت زیادہ ہے۔‘

Lucy Dorman

،تصویر کا ذریعہLucy Dorman

تو جب آپ قریب ترین ملک سے بھی ایک ہزار میل سے زیادہ دور ہوں تو آپ کھائیں گے کیا؟ فریز کیا ہوا کھانا کھانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

لوسی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بارے میں یہاں آنے سے پہلے بتایا گیا کہ بہت سے لوگوں کے لیے خوراک کی کمی اور تازہ خوراک کی کمی پریشان کن ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایک کچی گاجر یا سیب کو دانتوں سے کاٹ کر کھانا یاد آتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے زیادہ کھانے کی چیزیں یاد نہیں آتیں۔‘

تازہ پھل اور سبزیاں جزیرے پر حیاتیاتی تحفظ کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں کیونکہ وہ تیزی سے نشونما پاتی اور پھیلتی ہیں۔

لہذا یہاں کھانا بنیادی طور پر دو فریزروں سے ملتا ہے جہاں یہ سال میں ایک بار ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

ربیکا کہتی ہیں ’ایک فریزر سبزیوں سے جبکہ دوسرا منجمد گوشت سے بھرا ہوا ہے اور اس کے علاوہ ہمارے پاس بہت سارے منجمد پھلوں اور سبزیوں کے ٹین بھی ہوتے ہیں۔‘

’یہاں آنے کے پہلے دو ہفتوں کے ٹیک اوور ٹائم کے دوران ہمیں سال بھر کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور باقی سال ہم اس سے گزارہ کرتے ہیں۔‘

ٹیک اوور ٹائم سے مراد سال میں ایک بار، ستمبر کے مہینے کے دوران وہ دو ہفتے ہوتے ہیں جب گف پر موجود کچھ ملازمین پیک اپ کرتے اور گھر واپس جاتے ہیں، اور نئے ملازمین کام سنبھالتے ہیں۔

bbc

سماجی تنہائی کے متعلق ربیکا کہتی ہیں ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں یہاں سے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ زیادہ رابطے میں ہوئی ہوں جتنا میں شاید سکاٹ لینڈ میں کام کرتے ہوئے بھی نہیں تھی۔‘

ان دونوں کا کہنا ہے کہ بیس پر انٹرنیٹ کی سہولت ہے جس کے باعث رابطے میں رہنا آسان ہے اور مشکل اوقات میں چھوٹی سی ٹیم ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرتی ہے۔

ربیکا کہتی ہیں ’ہم اپنے پیاروں کی شادی یا جنازوں میں تو نہیں جا سکتے مگر یہاں جو تھوڑے سے لوگ ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کی کہانیاں شئیر کرتے، ایک دوسرے سے سیکھتے، اور مدد کرتے ہیں۔‘

آر ایس پی بی انٹرنیشنل کنزرویشن سائنس ٹیم میں لوسی اور ربیکا مختلف خطرے سے دوچار پرندوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھتی ہیں اس میں بحر اوقیانوس کے پیلے ناک والے الباٹراس، اٹلانٹک پیٹریل اور میک گیلیوری کے پرین بھی شامل ہیں۔

دن کے اوقات میں وہ واٹر پروف جیکٹس، ٹراؤزر اور ویلنگٹن کے جوتوں سے لیس ہو کر فیلڈ میں نکلتی ہیں اور موسم کا مقابلہ کرتی ہیں

یہ بھی پڑھیے

g

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ جزیرے پر پرندوں کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہیں اور اس کے علاوہ وہ چوہوں کے خلاف ان کی لڑائی کے بارے میں بھی معلومات اکھٹی کر رہی ہیں۔ یہاں حملہ آور چوہوں کی ایک نسل پرندوں کو کھا رہی ہے۔

لوسی کا کہنا ہے کہ ’چوہوں نے سمندری پرندوں کو کھانا شروع کر دیا تھا۔ یہاں کوئی شکاری نہیں ہے اور چوہوں کے حملے خاص کر چھوٹے پرندوں پر بہت برے اثرات مرتب کر رہے تھے۔‘

2017-18 میں چوہے ان پرندوں کے لیے اتنے خطرناک بن گئے کہ ٹرسٹن الباٹراس میں سے صرف 21 فیصد پرندے زندہ بچے۔

میک گیلیورے پرین جو ایک خطرے سے دوچار نسل ہے اور بلوں میں گھونسلے بناتی ہے، ان میں سے ایک بھی پرندہ زندہ نہیں بچا تھا۔

آر ایس پی بی کو شبہ ہے کہ 19ویں صدی میں ملاح چوہوں کو گف پر لانے کا سبب بنے، اور اب یہ گروپ انھیں ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

جزیرے پر چوہوں کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے – لیکن آر ایس پی بی ابھی تک جزیرے کو مکمل طور پر چوہوں سے چھٹکارا دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

لہذا اگر کوئی گف پر جا کر ایک سال نوکری میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے وہاں پرندوں، چوہوں، منجمد کھانا اور تنہائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

اس نوکری کے لیے درخواست دینے کی آخری تاریخ آنے والا اتوار ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ