بورس جانسن کو وزیراعظم ہوتے ہوئے آٹھ لاکھ پاؤنڈ قرض لینے کی ضرورت کیوں پڑی

  • مصنف, جوشوا نیویٹ
  • عہدہ, بی بی سی

بورس جانسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب بورس جانسن وزیر اعظم تھے تو انھیں اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے آٹھ لاکھ پاؤنڈ تک کے قرض کی پیشکش کی گئی تھی۔

یہ بات گزشتہ ہفتے اس وقت معلوم ہوئی جب برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی ایک رپورٹ میں قرض کی تفصیلات اور یہ الزامات سامنے آئے کہ بی بی سی کے چیئرمین رچرڈ شارپ اس قرض کا بندوبست کرنے والوں میں شامل تھے۔

سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے بعد رچرڈ شارپ نے کسی بھی طرح کے قرضے کے بندوبست میں شامل ہونے کی تردید کی ہے جبکہ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ان کے مالی مفادات کے بارے میں تمام تفصیلات ڈکلیئر کی گئی ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بورس جانسن کو اتنا بڑا قرض لینے کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟

جو لوگ بورس جانسن کو جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انھیں قرض کی رقم سن کر حیرانی نہیں ہوئی۔

وزیرِ اعظم کے دفتر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں بورس جانسن کے ساتھ کام کرنے والے ذرائع نے کہا کہ سابق وزیراعظم ’فضول خرچی کرنے والے شخص‘ نہیں تھے لیکن ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کے طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے یہ رقم ’بہت زیادہ نہیں تھی‘۔

ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ بورس جانسن کے پاس بچوں کی دیکھ بھال، طلاق کے تصفیے کے اخراجات اور دیگر بلوں کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے رقم کافی نہیں تھی۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

بورس اور کیری جانسن اپنی مئی 2021 کی شادی کے بعد ڈاؤننگ سٹریٹ کے باغ میں

’آمدن میں کمی‘

جب وہ جولائی 2019 میں وزیراعظم بنے تو ان کی آمدن کے دیگر ذرائع کے علاوہ ان کی تنخواہ ایک لاکھ 54 ہزار 908 پاؤنڈ تھی۔ برطانیہ میں 2021 میں اوسط تنخواہ سالانہ 33 ہزار پاؤنڈ تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بورس جانسن کو اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے پر آمدن میں کمی کا سامنا کرنا پڑا اور ایسا تب ہوا جب وہ پہلے 2016 میں خارجہ سیکرٹری بنے اور پھر 2019 میں وزیر اعظم بن گئے۔

’بورس جانسن: دی رائز اینڈ فال آف اے ٹربل میکر ایٹ نمبر ٹین‘ کے مصنف اینڈریو جیمسن کہتے ہیں کہ ’ان کی آمدنی میں کمی آئی تھی لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ قرض لے لیں، کیونکہ انھیں توقع تھی کہ وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کے بعد ان کی آمدنی بڑھ جائے گی۔‘

یہ سچ ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے بورس جانسن کا بطور ایک صحافی، ایک عوامی سپیکر اور ایک ٹی وی شخصیت کے بہت اچھا کیریئر تھا۔

ان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ڈیلی ٹیلی گراف اخبار کے کالم نگار کے طور پر تھا۔ جولائی 2018 اور جولائی 2019 کے درمیان، انھیں اخبار کی جانب سے ماہانہ 22 ہزار 916 پاؤنڈ ادا کیے جاتے تھے، جو بقول ان کے صرف 10 گھنٹے کا کام تھا۔

پارلیمانی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتابیں لکھنے، مضامین لکھنے اور تقریبات میں تقریر کرنے کے لیے بھاری فیس لیتے تھے۔

بورس

،تصویر کا ذریعہPA Media

پارلیمنٹ کے 2017 سے 2019 کے سیشن تک جانسن کو ملازمت اور آمدنی کے دیگر ذرائع سے کل آٹھ لاکھ پاؤنڈ کی آمدن ہوئی۔

اگر یہ اعداد و شمار درست ہیں، تو سنڈے ٹائمز کی رپورٹ میں بتائی گئی قرض کی رقم بھی وہی ہے۔

بورس جانسن کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ انھوں نے آٹھ لاکھ کے قرض میں سے بہت کم استعمال کیا تھا، جسے کریڈٹ کی سہولت کہا گیا تھا۔

کروڑ پتی کینیڈین تاجر اور بورس جانسن کے دور کے کزن سیم بلیتھ نے قرض کے ضامن کے طور پر اپنا نام دیا تھا۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ قرض کی قسطیں واپس کرنے میں ناکامی کی صورت میں قرض کی رقم کی واپسی کی گارنٹی ان کی تھی۔

بورس جانسن نے یہ ظاہر نہیں کیا ہے کہ انھیں اس قرض کی پیشکش کس نے کی تھی۔

لیکن سابق وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ’بورس جانسن کے تمام مالیاتی ذرائع ڈکلیئرڈ ہیں اور حکام کے مشورے سے رجسٹر کیے گئے ہیں۔‘

اس رقم کا استعمال کیسے کیا گیا، اس بارے میں سنڈے ٹائمز کا کہنا ہے کہ فنڈز نے بورس جانسن کو روزمرہ کے اخراجات اور بطور وزیر اعظم اپنا پرانا لائف سٹائل برقرار رکھنے میں مدد کی۔

ایک بل جو ان کی وزارت عطمیٰ کے دوران آیا وہ 11 ڈاؤننگ سٹریٹ کے اوپر والے فلیٹ کی مرمت و آرائش کا تھا، جہاں وہ اپنی اہلیہ، کیری جانسن اور اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

طلاق کا تصفیہ

بورس جانسن کو کنزرویٹو پارٹی کے اس ڈونر کو 52 ہزار پاؤنڈ واپس دینے تھے جس نے ڈاؤننگ سٹریٹ کے فلیٹ کی مرمت و آرائش کے لیے ادائیگی کی تھی۔

اس کے علاوہ 2020 میں ان کی دوسری بیوی مرینا وہیلر کے ساتھ ہونے والی طلاق کے تصفیے کے طور پر انھیں لاکھوں پاؤنڈ دینے پڑے۔ مرینا کے ساتھ ان کے چار بچے ہیں۔

بورس جانسن ماضی میں اپنی مالی حالت کے بارے میں شکایت کر چکے ہیں۔

2009 میں جب وہ لندن کے میئر تھے تو انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیلی گراف سے ہونے والی ان کی سالانہ ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کی آمدنی بہت معمولی تھی۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ انھوں نے ’کافی رقم عطیہ‘ کی ہے۔

سنڈے ٹائمز کے مطابق اکتوبر 2017 میں جب وہ سیکرٹری خارجہ تھے تو انھوں نے اپنے ایک دوست کو بتایا تھا کہ ان کے پاس پیسے ختم ہو رہے ہیں اور وہ اپنی ’بڑھتی ہوئی گھریلو ذمہ داریوں‘ کی وجہ سے ایک لاکھ اکتالیس ہزار پاؤنڈ کی آمدنی میں گزارا نہیں کر سکتے۔

اس طرح کے مالی دباؤ کو دیکھتے ہوئے، بورس جانسن کے سابق عملے میں سے ایک نے کہا کہ وزیر اعظم کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اپنے مالی مسائل کے بارے میں فکر مند نہ ہو۔

مصنف جیمسن نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’بورس کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ وہ اس طرح سے کما رہے ہوں اور ایسی زندگی جی رہے ہوں جس کا ہم میں سے اکثر خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بورس جانسن ’زیادہ پیسہ کمانے کے بہت شوقین تھے‘ لیکن وہ ذاتی طور پر ’کافی کفایت شعار‘ ہونے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

جیمسن نے کہا کہ قرض سے پتہ چلتا ہے کہ بورس جانسن کو ’کہیں زیادہ لمبے عرصے تک وزیراعظم کے عہدے پر رہنے کی امید تھی۔‘

اب وہ اس عہدے پر نہیں ہیں اور سابق وزرا اعظم کی طرح ایک لاکھ پندرہ ہزار تک کے الاؤنس کے حقدار ہیں۔

لیکن سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جب تک بورس جانسن اپنے وزارت عطمیٰ کے دور کے مالی ذرائع کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیتے، اس وقت تک ان کا الاؤنس روک دیا جانا چاہیے۔

پارٹی کے چیف وہپ وینڈی چیمبرلین نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ ان کی دلچسپی صرف پیسے میں ہے، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ان پر وہاں وار کیا جائے جہاں سب سے زیادہ تکلیف ہو۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ