اٹلی پہنچنے کی کوشش میں پاکستانی شہریوں سمیت 59 افراد کشتی ڈوبنے سے ہلاک

  • مصنف, کیتھرین آرمسٹرونگ اور اولیور سلو
  • عہدہ, بی بی سی نیوز

اٹلی

اٹلی کے جنوبی علاقے میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 12 بچوں سمیت 59 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ کشتی کئی دن قبل ترکی سے روانہ ہوئی تھی اور اس میں افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور ایران کے باشندے سوار تھے۔

واضح رہے کہ غربت یا دیگر وجوہات کی وجہ سے سالانہ ایک بڑی تعداد میں لوگ افریقہ کی جانب سے اٹلی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اٹلی کے ساحل پر کشتی ڈوبنے کے واقعے میں پاکستانی شہریوں کی ممکنہ موجودگی کی خبروں سے واقف ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ روم میں پاکستانی سفارت خانہ اطالوی حکام سے واقعے کے حقائق جاننے کے عمل میں مصروف ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’اٹلی میں کشتی کے حادثے میں دو درجن سے زیادہ پاکستانیوں کے ڈوبنے کی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔ میں نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ جلد از جلد حقائق کا پتا لگایا جائے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔‘

یہ کشتی اٹلی کے کالابریا علاقے میں کروٹونے قصبے کے قریب ساحل پر لنگر انداز ہونے کی کوشش کر رہی تھی جب اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیش آیا۔

زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ اس کشی میں 150 افراد سوار تھے۔ اٹلی کے صدر نے کہا ہے کہ ان کی اکثریت مشکل حالات سے فرار اختیار کر رہے تھے۔

اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پیانٹیڈوسی، جنھوں نے اس مقام کا دورہ کیا، نے بعد میں بتایا کہ تقریباً 30 افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

اٹلی کی خبر رساں ایجنسی انسا نیوز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چند ماہ کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ساحل پر موجود ایک ریزورٹ کے پاس سے ملیں۔

کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ 80 افراد کو زندہ حالت میں پایا گیا جن میں سے کچھ ایسے تھے جو کشتی ڈوبنے کے بعد ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

اب تک یہ واضح نہیں کہ کشتی کے ڈوبنے سے قبل اس میں کتنے لوگ سوار تھے۔ ریسکیو حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی میں 200 سے زیادہ افراد سوار تھے جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 60 سے زیادہ افراد کا کوئی پتہ نہیں۔

’ایسا سانحہ کبھی نہیں ہوا‘

بتایا گیا ہے کہ یہ کشتی اس وقت ڈوب گئی تھی جب خراب موسم میں یہ سمندر میں موجود پتھروں سے ٹکرائی جس کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

ویڈیو فوٹیج میں کشتی کا ملبہ ساحل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کو کمبل لپیٹے دیکھا گیا جن کی مدد ریڈ کراس کے اہلکار کر رہے تھے۔ ان میں سے چند کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

قصبے کے میئر انتونیو کیراسو نے رائے نیوز کو بتایا کہ ’اس سے پہلے بھی ساحل ہر لوگ اترتے ہیں لیکن ایسا سانحہ کبھی نہیں ہوا۔‘

کسٹم پولیس نے کہا ہے کہ اس واقعے میں زندہ بچ جانے والے ایک فرد کو انسانی سمگلنگ کے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اٹلی

،تصویر کا ذریعہSHUTTERSTOCK

اطالوی وزیر اعظم جیورجیا میلونی، جو گذشتہ سال تارکین وطن کی آمد کے سلسلے کو روکنے کے وعدے کے ساتھ منتخب ہوئی تھیں، نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سمگلرز کو ان اموات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایک محفوظ سفر کے جھوٹے وعدے کے لیے ایک ٹکٹ کی قیمت کے عوض مردوں، عورتوں اور بچوں کی زندگیوں کا سودا کرنا غیر انسانی فعل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس کی روک تھام کے لیے پرعزم ہے۔

جیورجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت نے اس عزم کا اظہار کر رکھا ہے کہ تارکین وطن کو ملک کے ساحل تک پہنچنے سے روکا جائے گا۔ گذشتہ چند دنوں میں ان کی حکومت ایسے سخت قوانین منظور کروا چکی ہے جو ریسکیو سے متعلق ہیں۔

اٹلی کے سابق وزیر خزانہ کارلو کلینڈا نے کہا ہے کہ سمندر میں مشکل کا سامنا کرنے والے لوگوں کو ہر قیمت پر بچانا چاہیے لیکن غیر قانونی راستے بند کرنا ہوں گے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لین نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’معصوم تارکین وطن کی ہلاکت ایک سانحہ ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یورپی قوانین میں ترامیم اور اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ غیر قانونی طور پر یورپ کا سفر کرنے کے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

اٹلی

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب پوپ فرانسس، جو تارکین وطن کے حقوق کا دفاع کرتے رہے ہیں، نے کہا کہ وہ مرنے والوں، بچ جانے والوں اور لاپتہ لوگوں کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

مانیٹرنگ گروپس کے مطابق سنہ 2014 میں بحیرہ روم کے وسطی حصے میں 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

مائگرینٹ آف شور ایڈ سٹیشن کی ڈائریکٹر رجینا کیٹرامبون نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی ممالک کو مل کر ان لوگوں کی مدد کرنا ہو گی۔

ان کا ادارہ بحیرہ روم میں ریسکیو آپریشن کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سوچ ختم ہونی چاہیے کہ جو ملک افریقہ اور مشرق وسطی کے قریب ہیں، ان کو اس مسئلے کے حل میں آگے بڑھنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب تک یورپی ممالک میں ملک کر ان لوگوں کی مدد کرنے پر کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔ انھوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ کہ وہ ریسکیو کے نظام کو مضبوط کریں اور تارکین وطن کے لیے محفوظ اور قانونی راستے بنائیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ