جمعرات یکم شوال المکرم 1442ھ13؍مئی 2021ء

’کیا میڈیا آزاد ہے؟‘ جسٹس فائز کے سوال پر اٹارنی جنرل جواب نہ دے سکے

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سوال کہ کیا میڈیا آزاد ہے؟ پر اٹارنی جنرل خالد جاوید جواب نہ دے سکے۔

سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ جس طرح یہ ملک چل رہا ہے اس پر حیران ہوں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ 2017ء میں مردم شماری ہوئی لیکن ابھی تک اس کا حتمی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ کیا 2017ء کے بعد سب سو گئے تھے؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مردم شماری پر سندھ اور دیگر کے اعتراضات ہیں، مردم شماری پر اعتراضات پر وفاقی حکومت نے کمیٹی بنادی ہے، سندھ میں 5 فیصد بلاکس پر دوبارہ مردم شماری کرائی جائے گی، مردم شماری کے نتائج پر ایم کیو ایم کے بھی اعتراضات تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا نام نہ لیں، یہ آئینی معاملہ ہے، کیا سندھ کا اعتراض آبادی کم ہونے کا تھا؟ 2017ء سے 2021ء تک مردم شماری پر فیصلہ نہ ہو سکا، کیا پاکستان کو اس طرح سے چلایا جارہا ہے؟ یہ تو روزانہ کے معاملات ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ آرڈیننس تو 2 سے 6 روز میں آ جاتا ہے، مردم شماری پر فیصلہ نہ ہو سکا، یہ ترجیحات کا ایشو نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین کون ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین وزیرِ اعظم ہوتا ہے۔

جسٹس قاض فائز عیسیٰ نے دریافت کیا کہ کیا وزیرِاعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے اجلاس بلایا تھا لیکن کسی وجہ سے اجلاس نہیں ہو سکا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضہ ہیں، بلدیاتی انتخابات کی بات ہو تو صوبے اپنے مسائل گنوانا شروع کر دیتے ہیں، پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کر کے جمہوریت کا قتل کر دیا، پنجاب حکومت کی بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی کوئی وجہ تو ہو گی، مارشل لاء دور میں مقامی حکومتیں تحلیل ہوتی تھیں لیکن جمہوریت میں ایسا نہیں سنا۔

جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب لوکل گورنمنٹ ختم کرنے کا موڈ بن گیا تھا؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون بنا دیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں کہ پنجاب کی مقامی حکومتیں کیوں تحلیل کی گئیں؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء مقامی حکومتوں کے قیام کے ایک سال بعد تحلیل کی اجازت دیتا ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ ایکٹ نہیں ڈکلیئریشن ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ گیم نہ کھیلیں، الیکشن کمشنر نے خود کہا ہے کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتیں غیر قانونی تحلیل ہوئیں، آپ کاحلف ہے کہ آپ قانون کے مطابق سچ بولیں گے، آپ ایک قانون دان کے طور پر بتائیں کہ پنجاب کی لوکل گورنمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ آئینی تھا؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ یہ میرے لیے ایک مشکل سوال ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ آپ عدالت کو جواب ہی دینا نہیں چاہتے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں، ملک میں میڈیا کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ ملک میں کیسے اصل صحافیوں کو باہر پھینکا جا رہا ہے، ملک کو منظم طریقے کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے، جب میڈیا تباہ ہوتا ہے تو ملک تباہ ہوتا ہے، صبح لگائے گئے پودے کو کیا شام کو اکھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ جڑ کتنی مضبوط ہوئی۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ججز کو ایسی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیئے لیکن کیا کریں کہ ملک میں آئیڈیل صورتِ حال نہیں، کب تک خاموش رہیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محبِ وطن بتایا جا رہا ہے، بلدیاتی حکومت کو ختم کر کے پنجاب حکومت نے آئین کی واضح خلاف ورزی کی، ایسے تو اپنی مرضی کی حکومت آنے تک آپ حکومتوں کو ختم کرتے رہیں گے، جمہوریت کھوئی تو آدھا ملک بھی گیا، میڈیا والے پٹ رہے ہیں، ڈیفنس میں رہنے والوں کے ایشو نہیں، کچی آبادی والوں کے مسائل ہوتے ہیں۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ خود کو نہ سدھارا تو وقت نکل جائے گا، لوگ بد دعائیں دے رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا پنجاب کا حال مشرقی پاکستان والا کرنا ہے؟ پنجاب کے عوام کو حقوق سے محروم کر دیا، الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے اخراجات سے ڈراتا ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ الیکشن پر 18 ارب خرچہ آئے گا، میں نے حساب لگایا، یہ خرچ 36 اراکانِ اسمبلی کو دیئے جانے والے ترقیاتی فنڈز کے برابر ہے، یہ عوام کا پیسہ ہے، مردم شماری کا ایشو ہے تو دوبارہ کروا لیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نئی مردم شماری پر فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہوگا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب! ہاں، ناں یا معلوم نہیں میں جواب دیں۔

اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ کیا کوئی چوتھا آپشن مل سکتا ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمرۂ عدالت میں موجود میڈیا والوں سے ریفرنڈم کرا لیتے ہیں، میڈیا والے ہاتھ کھڑا کریں کیا میڈیا آزاد ہے؟

کسی میڈیا والے نے میڈیا آزاد ہونے کے سوال پر ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ صحافی ہاتھ کھڑا کریں جو سمجھتے ہیں کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔

تمام صحافیوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے آزاد میڈیا نہ ہونے کے سوال پر ہاتھ کھڑے کر دیئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! دیکھ لیں، اسے عام اصطلاح میں رینڈم سیمپلنگ کہتے ہیں، آزادیٔ صحافت کو دبانے والے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، میڈیا پر پابندی لگانے والے مجرم ہیں، ان کو جیل میں ہونا چاہیئے، ہمارا آئین میڈیا کی آزادی کا ضامن ہے، میڈیا کو کنٹرول کر کے اپنی تعریف سن کر خوش ہوتے رہتے ہیں، اپنی تعریفیں سن کر خوش ہونے والوں کو ماہرِ نفسیات کے پاس جانا چاہیئے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ملک میں واقعی ہی ایک جنگ جاری ہے لیکن عوام کے خلاف۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.