بدھ9؍شعبان المعظم 1442ھ24؍مارچ 2021ء

کم وزن ہونا ذیابیطس سے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی، ماہرین

ایسے متعدد قابل ترمیم اور ناقابل ترمیم عوامل ہوتے ہیں جوکہ آپکو ذیابیطس کی انتہائی خطرناک ٹائپ ٹو بیماری میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ ذیابیطس کی بیماری کی یہ ایک ایسی شدید قسم ہوتی ہے جسکے لیے صحت مندانہ طریقہ کار کے ذریعہ خون میں موجود شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کئی قسم کے رسک فیکٹرز پر بروقت نظر رکھی جائے تو پھر اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اور اسطرح کافی ابتدا ہی میں اسکی تشخیص ہوجاتی ہے اور اسے ایڈوانس مرحلے میں پہنچنے سے پہلے ہی اسکی روک تھام کی جاسکتی ہے۔

ذیابیطس کی بیماری میں وزن کا زیادہ ہونا اور خاندان میں اس بیماری کا موجود ہونا دو بڑے رسک فیکٹرز سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دیگر عوامل بھی آپکو اس مرض کے حوالے سے شدید خطرات میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ کہنا کہ صرف زیادہ جسمانی وزن اور فیملی ہسٹری ہی اس خطرناک بیماری کی وجہ ہوتی ہے غلط ہوگا، تاہم ماہرین صحت نے اس عام خیال کو طبی بنیاد پر غلط قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اسی وجہ سے بعض کیسز میں ذیابیطس کی تشخیص میں تاخیر ہوجاتی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ یہ بات تو درست ہے کہ اگر آپکا جسمانی وزن زیادہ ہے یا پھر آپکے خاندان میں یہ مرض موجود ہے تو آپ زیادہ خطرے میں ہیں، لیکن ان رسک فیکٹرز کے نہ ہونے کے باوجود آپ اس مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں، چاہے آپکا وزن کم یا بالکل متناسب ہو پھر بھی یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔

اسکے لیے ضروری ہے کہ اگر آپکی فیملی ہسٹری ہو تو پھر آپ جب بیس سال کے ہوجائیں تو چیک اپ کرانا ضروری ہے اور اگر فیملی ہسٹری نہ ہو تو پھر عمر کی یہ حد 30 سال ہوتی ہے اور یہ ٹیسٹ ضرور کرانا چاہیے، علامات کا انتظار نہ کریں اور  یہ نہ سمجھیں کہ آپ کم خطرات والے گروپ میں ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ اگر آپ نے اسے شروع ہی میں پکڑ لیا تو پھر نہ صرف اسے کنٹرول بلکہ اسے ختم بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ جیسے جیسے یہ بڑھتا ہے نہ صرف خطرناک بلکہ دائمی مرض کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ 

موٹاپا اور خاندانی ہسٹری کے علاوہ جو دیگر عوامل اس مرض کے حوالے سے ہوتے ہیں ان میں دن بھر کے دوران جسمانی سرگرمی کا نہ ہونا اور غیر صحت مند خوراک شامل ہے۔ اور پھر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور پی سی اوز، ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول لیول وہ عوامل ہیں جوکہ شوگر کے خطرات کو بڑھاتے ہیں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.