جمعرات3؍ شعبان المعظم 1442ھ18؍مارچ 2021ء

پیدائشی زیادہ وزن والے بچوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے امکانات ہوتے ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی بچے کا پیدائشی وزن ڈھائی کلو گرام یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ بالغ ہونے کے بعد اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجائے۔

یہ تحقیقی رپورٹ بی ایم جے اوپن ڈائی بیٹیس ریسرچ اینڈ کیئر جرنل کے آن لائن پورٹل میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق پیدائشی وزن کا نچلی گردشی سطح کی انسولین جیسی گروتھ فیکٹر ون یا پھر آئی جی ایف ون جوکہ انسولین جیسے ایک ہارمون کا مخفف ہے اور یہ بچپن کی بڑھوتری اور نوجوانی میں انرجی میٹابولزم سے اسکا تعلق ہوتا ہے۔

تحقیق سے منسلک سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ زندگی کے بعد کے ایام میں ذیابیطس ٹائپ ٹو ابتدائی عمر میں اور نوجوانی میں ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں۔

یہ پتہ چلانے کے لیے کہ انسولین جیسے ہارمون کی گردش کی سطح، بچپن کا وزن اور ٹائپ ٹو شوگر کے لاحق ہونے کے امکانات کے حوالے سے ریسرچرز نے برطانیہ کے بایو بینک اسٹڈی سے ایک لاکھ بارہ ہزار 736 خواتین اور 68 ہزار 354 مردوں کے مذکورہ بالا ڈیٹا حاصل کیے۔

یوکے بایو بینک ایک بڑی آبادی پر مبنی اسٹڈی ہے، جس کے لیے 37 سے 73 برس کے شرکا کو 2006 سے 2010 کے درمیان بھرتی کیا گیا۔ اس اسٹڈی کے تحت درمیانے اور زیادہ عمر کے افراد میں عام بیماریوں کے جنیاتی اور طرز زندگی پر مبنی فیکٹرز کے امکانی اثرات کا بڑے پیمانے پر جائزہ لیا گیا۔

اس دوران ان افراد نے اپنے خون، یورین اور سلیوا کے نمونے بھی دیئے، جبکہ انکے قد، وزن اور باڈی ماس انڈیکس کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے طبی معلومات اکٹھے کیے گئے اور پھر ایک اوسط مانیٹرنگ وقت جوکہ تقریباً دس برس تھا۔

اس دوران 3 ہزار 99 افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کی بیماری ڈیولپ ہوئی، جبکہ وہ شرکا جنکی عمر زیادہ اور آئی جی ایف ون کی سطح کم تھی ان میں بھی ذیابیطس کے کلینیکل رسک فیکٹرز پائے گئے۔ 

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.