بدھ2؍شعبان المعظم 1442ھ17؍مارچ 2021ء

’میرے شوہر آئی سی یو کے سب سے کم عمر مریضوں میں شامل تھے‘

کورونا وائرس: وہ نوجوان جو اس وبائی مرض کی وجہ سے اپنے جیون ساتھی سے محروم ہو گئے

پامیلا اینڈرسن اپنے شوہر مارٹن کے ساتھ

پامیلا اینڈرسن اپنے شوہر مارٹن کے ساتھ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے

امریکہ میں کووڈ 19 کی وبا سے اب تک چار لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں ایسے نوجوان مرد اور خواتین بھی شامل ہیں جن کے ساتھی اس وبا کی وجہ سے دنیا چھوڑ گئے۔

تنہا ہو جانے کے بعد ایسے افراد نے باہمی تعاون کے لیے ایک فیس بک گروپ بنایا ہے۔ اس فیس بک گروپ کے دو اراکین نے بی بی سی کے او ایس ریڈیو سے بات کی ہے۔

پامیلا اینڈرسن نے وبائی مرض کے ابتدائی ہفتوں میں اپنے 44 برس کے شوہر مارٹن کو کھو دیا۔ دو بچوں کی والدہ نے اپنے شوہر کے بارے میں کہا کہ ہمارے کنبے میں طوہ سب سے پیارے اور سب سے شفیق شخص تھے۔‘

’انھیں واقعی زندگی سے بہت پیار تھا اور والد بننا پسند تھا۔ انھوں نے میرے لیے ایک گیت بھی لکھا تھا جو ان کے مرنے کے بعد مجھے ان کے فون میں ملا۔ اس گیت کا ملنا ایک خوبصورت احساس تھا کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے کتنا پیار کرتے تھے۔‘

مارٹن 22 مارچ کو بیمار ہوئے اور اپنی بیٹی کی دوسری سالگرہ کے فوراً بعد انھیں کھانسی ہو گئی تھی۔

آخر کار کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔ آخری بار پامیلا اس وقت ان کے ساتھ تھیں جب انھیں نیو جرسی میں ان کے گھر سے ہسپتال لے جایا جارہا تھا۔ تین اپریل کو سانس لینے میں ان کی دشواری کو دیکھتے ہوئے پامیلا نے ایمرجنسی سروس کو بلایا تھا۔

بی بی سی بینر

لائن

مارٹن ایک ہسپتال میں سپیچ پیتھالوجسٹ کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور ایسا لگا کہ وہ وہیں اس وائرس کی زد میں آئے۔

انھوں نے ہسپتال میں 26 دن گزارے۔ جس کے بارے میں پامیلا کا کہنا ہے کہ وہ ’میری زندگی کے سب سے زیادہ دباؤ والے دن‘ تھے۔

وہ یاد کرتے ہوئی کہتی ہیں کہ ’ہماری شادی کی سالگرہ کے موقع پر میں ان سے سکائپ پر بات کر رہی تھی اور ایک خوبصورت نرس نے ان کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔‘

’اگرچہ وہ شدید طور پر بے حس پڑے تھے لیکن میں نے ان سے کہا کہ لڑتے رہو اور یہ کہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔ انھوں نے نرس کا ہاتھ بھینچ لیا اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔ ان سے وہی میری آخری گفتگو تھی۔ وہ آئی سی یو کے سب سے کم عمر مریضوں میں سے ایک تھے۔‘

29 اپریل کو انھیں دل کا دورہ پڑا اور ان کی موت ہوگئی۔

37 برس کی پامیلا نے فیس بک پر ینگ وڈوز اور وڈوورز کا گروپ قائم کیا تاکہ وہ اپنے شوہر کی موت کے صدمے سے باہر آ سکیں۔

’جب آپ کو سب سے کم توقع ہو تو غم آپ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ جان پانا واقعی مشکل ہے۔ بچے ابھی سمجھ نہیں سکتا ہیں۔ میرا دو سالہ بچہ کافی سمجھدار ہے اور لگتا ہے کہ اس نے مفاہمت کر لی ہے۔‘

کسی بھی عمر کے لوگ کورونا وائرس کی پیچیدگیوں یا بیماری سے محفوظ نہیں ہیں لیکن مجموعی طور پر بوڑھے لوگ جن کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے یا پھر وہ پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں، وہ اس کی زد میں آ کر زیادہ ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹیکساس کی رہائشی 35 برس کی جینیفر لا کے پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ان کے شوہر میتھیو کا نومبر میں انتقال ہو گیا۔

وہ یاد کرتی ہیں کہ ’ہم سب بیمار ہو گئے، بچے جلدی سے اچھے ہو گئے۔‘ لیکن 9 نومبر کو میتھیو کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انھیں پلازما دیا گیا اور اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیویر دی گئی۔ جب وہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے باہر آئے تو ان کی امیدیں بڑھ گئیں لیکن پھر ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

جنیفر لا اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ

جنیفر لا اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ

’27 نومبر کی شام انھیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا گیا، صدمے سے ان کا دل رک گیا۔ ان کے قلب کو حرکت دی گئی لیکن پھر ان کے اعضا کام چھوڑنے لگے اور وہ 28 تاریخ کو انتقال کر گئے۔ ان کی غیر متوقع موت نے مجھے صدمے میں پہنچا دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے شوہر ایک حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایسے شخص تھے جن سے کمرہ روشن ہو جاتا تھا۔ ہر کوئی ان سے پیار کرتا تھا۔‘

وہ کم عمری سے ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے اور سکول میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ وہ اپنے مقامی چرچ میں بہت زیادہ جاتے تھے۔

’میں پچھلے 23 برسوں سے انھیں جانتی اور پیار کرتی تھی اور گذشتہ 13 سال سے ہم شادی شدہ تھے۔‘

میتھیو نے ایک دہائی امریکی فوج میں گزاری، جس میں سنہ 2005 اور 2009 میں عراق کے دو دورے بھی شامل تھے۔ آخر کار یہ لوگ ٹیکساس چلے گئے جہاں وہ مقامی ڈسٹرکٹ سکول کے لیے مکینک کا کام کرنے لگے یعنی ان کی بسوں کی مرمت کرنے لگے۔

جینیفر کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے بچے اب میتھیو کی اچانک موت کا مقابلہ کرنے کا طریقہ سیکھ رہے ہیں۔

پامیلا اور جینیفر دونوں کے لیے فیس بک سپورٹ گروپ بھی اپنی نوعیت کا ایک علاج رہا ہے۔ یہ ایک مٹھی بھر خواتین سے شروع ہو کر اب دو سو ممبرز تک بڑھ چکا ہے۔

پامیلا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے اپنی کہانی کئی کووڈ گروپس میں پوسٹ کی جس کا میں حصہ تھی اور تبصروں میں دیکھا کہ بہت ساری نوجوان بیوہ خواتین بنیادی طور پر یہ کہہ رہی تھیں کہ ’یہ میری کہانی ہے۔‘

’میں نے سوچا کہ ہمیں ایک گروپ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے ان تمام خواتین تک پہنچنے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔ ہم اس میں اکٹھے ہیں اور ہم ایک دوسرے کو اس (غم) سے نکلنے میں مدد کریں گے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں تنہا ہیں جنھیں اپنے شوہر کو کھونے اور چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کا معاملہ درپیش ہے لیکن ایک دوسری بیوہ کی جانب سے ہمدردی کارڈ ملنے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ وہ تنہا نہیں اور اس ’نیو نارمل‘ میں انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

جینیفر کو اس گروپ کا حصہ بننے سے تنہائی اور بے بسی سے لڑنے میں مدد ملی۔

’مجھے پتا چلا کہ دوسرے لوگ ہیں جو آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں، جو آپ سے پیار کرتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے اور مجھے بس انھی چیزوں کی ضرورت تھی اور اس گروپ میں مجھے یہ سب سہارا ملا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.