اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء

قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، عمر ایوب کی اپوزیشن پر تنقید

قومی اسمبلی کے آج ہوئے ہنگامہ خیز اجلاس میں مسلم لیگ نون کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس ایوان میں پیش نہ کر کے قوائد کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس پر حکومتی جماعت کے رہنما بابر اعوان نے کہا کہ یہ اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے، آج کے اجلاس میں آرڈیننس پیش کرنا مناسب نہیں تھا۔

ایوان میں بات کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ اجلاس کے پہلے روز ہی آرڈیننس پیش کریں، اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی کہ پیر کو آرڈیننس پیش کریں، اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کیلئے سیشن کے آغاز پر آرڈیننس پیش ہونے چاہئیں۔

اسمبلی اجلاس کے دوران پپٹرول، بجلی، گیس اور  اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کی اجازت دی گئی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر عمر ایوب نے بجلی ،گیس منہگی ہونے، معاشی مسائل اور قرضوں سمیت ہر مشکل کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیا اور کہا کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں ۔

عمر ایوب نے کہا کہ مگر مچھ کے آنسو بہانے والی اپوزیشن اپنے گریبان میں جھانکے، سابق حکومتوں نے ریکارڈ قرضے لیے ان کے سود کی ادائیگی ہم کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں۔

ایوان میں عمر ایوب کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا جاری رہا تاہم وفاقی وزیر نے اپنی تقریر جاری رکھی۔

عمر ایوب نے ایوان میں بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے سارے منصوبے کمیشن کی بنیاد پر تھے۔

اس موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہاؤس ایسے چلانا ہے، رولز کے مطابق چلائیں۔

اس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آپ مجھے رولز بتائیں کہ کیسےچلانا ہے، میں نے ہاؤس کو چلانا ہے، آپ مجھے نہ بتائیں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.