بدھ2؍شعبان المعظم 1442ھ17؍مارچ 2021ء

فیصل واؤڈا نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مستعفی رکنِ قومی اسمبلی فیصل واؤڈا کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ فیصل واؤڈا کا بیانِ حلفی بادی النظر میں جھوٹا ہے، انہوں نے الیکشن کمیشن میں بیانِ حلفی جمع کرایا، الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کر کے مناسب حکم جاری کر سکتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصل واؤڈا نے 11 جون کو دہری شہریت نہ رکھنے کا بیانِ حلفی جمع کرایا، انہیں امریکی شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون کو جاری ہوا، فیصل واؤڈا کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت وہ امریکی شہری اور الیکشن لڑنے کیلئے نا اہل تھے۔

فیصل واوڈ کی نا اہلی کے کیس میں ان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ فیصل واؤڈا نے بطور رکنِ قومی اسمبلی استعفیٰ دے دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ کا تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ 29 جنوری 2020ء سے 3 مارچ 2021ء تک فیصل واؤڈا نے نااہلی کی درخواست پر کوئی جواب داخل نہیں کیا، انہوں نے کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے معاملے کو طول دیا، انہوں نے جواب داخل نہ کرا کے کیس میں تاخیر کی۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ جواب داخل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن سے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا، فیصل واؤڈا کے وکیل نے 3 مارچ کی سماعت میں ان کا اسمبلی سے استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل نے اصرار کیا کہ ابھی استعفیٰ صرف پیش کیا گیا ہے، جس کی منظوری باقی ہے، جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے کے الگ نتائج ہیں، فیصل واؤڈا ممبرِ قومی اسمبلی یا ممبر سینیٹ بننے کے اہل نہیں رہے۔

عدالتِ عالیہ کا اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ فیصل واؤڈا 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے، 7 اگست 2018ء کو ان کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا۔

واضح رہے کہ فیصل واؤڈا کو دہری شہریت چھپانے اور جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.