جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء

عدالت پر حملہ: 26 وکلاء کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ملتوی

اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والے 26 وکلاء کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

وکلاء نے کچہری آپریشن کرنے والوں کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

وکلا ء نے کہا کہ ہماری تذلیل کی جا رہی ہے، ایسا کبھی مارشل لاء دور میں بھی نہیں ہوا تھا، ہمیں عدالت آتے ہوئے باہر گیٹ پر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ حملہ کیس کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے دوران گرفتار وکلاء نے دیگر قیدیوں کے ساتھ لانے پر اعتراض کیا۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکلاء تنظیمیں خود ذمے داروں کا تعین کرتیں تو دیگر وکلاء پریشان نہ ہوتے، یہ معاملہ کالا کوٹ پہننے والے وکلاء اور ہم ججوں کیلئے المیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ ختم کرنا ہے تو آپ خود ان وکیلوں کے نام دیں جنہوں نے حملہ کیا، جنہوں نے توڑپھوڑ کی، براہِ مہربانی ان پانچ سات وکلاءکے نام ہمیں دیں، جتنا میرے علم میں ہے کچھ سی سی ٹی وی کیمرے اس دن فعال نہیں تھے۔

وکلاء نے کہا کہ نہ تو تصدیق شدہ ایف آئی آر کی کاپیاں فراہم کی گئیں نہ ہی ضمانت کا حق ملا۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون سب کیلئے برابر ہے۔

وکلاء نے کہا کہ پولیس صرف اس ادارے کی انا کی تسکین کیلئے گرفتاریاں کر رہی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے جواب دیا کہ کسی کی کوئی انا نہیں ہے۔

وکلاء نے کہا کہ پولیس اس عدالت کا نام لے کر گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے 26 وکلاء کی استدعا پر جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.