منگل یکم شعبان المعظم 1442ھ 16؍مارچ 2021ء

شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی زندگی میں واپس نہیں لوٹ رہے

شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی زندگی میں واپس نہیں لوٹ رہے

Prince Harry, Duke of Sussex and Meghan, Duchess of Sussex depart Canada House on January 07, 2020 in London, England

بکنگھم پیلس نے کہا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے شاہی فرائض انجام دینے کے لیے واپس نہیں آئیں گے۔

ملکہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جوڑا ’ان ذمہ داریوں اور فرائض کو جاری نہیں رکھ سکتا جو عوامی زندگی کے ساتھ آتے ہیں۔‘

محل کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن ان افراد میں شامل ہیں جن سے ’خاندان کو بہت زیادہ پیار ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

جوڑے کا کہنا ہے کہ ’خدمت عالمگیر ہے‘ اور انھوں نے ان تنظیموں کی حمایت جاری رکھنے کی پیشکش کی جن کی وہ نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

ڈیوک اور ڈچز نے گذشتہ جنوری میں اعلان کیا تھا کہ وہ شاہی خاندان کے ’سینیئر‘ ارکان کی حیثیت سے دستبردار ہو رہے ہیں اور معاشی طور پر آزاد ہونے کے لیے کام کریں گے۔

وہ اس اعلان کے بعد گذشتہ سال مارچ میں اپنی شاہی ذزہ داریوں سے دستبردار ہوگئے تھے اور یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ 12 مہینے کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

Prince Harry and Meghan under a tree

جوڑے نے چند دن قبل اس تصویر کے ساتھ دنیا کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے ہاں دوسرا بچہ ہونے والا ہے

اب محل کی طرف سے اس تازہ تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن، جو اب کیلیفورنیا میں رہتے ہیں، اپنی اعزازی فوجی تقرریاں اور شاہی سرپرستیاں واپس کریں گے۔

شہزادہ ہیری کے نام کے ساتھ اب بھی ’شہزادے‘ کے لفظ کا استعمال کیا جائے گا کیوں کہ وہ شاہی خاندان میں پیدا ہوئے ہیں۔

محل کے اس اعلان سے قبل شہزادہ ہیری اور شاہی خاندان کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔

بکنگھم پیلس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’ملکہ نے تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاہی خاندان کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کے بعد عوامی ذمہ داریوں اور فرائض کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہے، جو عوامی خدمت کی زندگی کے ساتھ آتی ہیں۔

’اگرچہ سبھی ان کے فیصلے پر دکھی ہیں، لیکن ڈیوک اور ڈچز خاندان کے بہت پیارے رکن رہیں گے۔‘

ہیری اور میگھن کے ایک ترجمان نے کہا: ’جیسا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ان کے کام سے عیاں ہے، ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس برطانیہ اور پوری دنیا میں اپنے فرائض اور خدمات کے لیے پر عزم ہیں، اور انھوں نے قطع نظر کسی سرکاری کردار کے ان تنظیموں کو اپنی مستقل حمایت کی پیشکش کی ہے، جن کی وہ نمائندگی کرتے رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم سب خدمت کرنے والی زندگی گزار سکتے ہیں۔ خدمت عالمگیر ہے۔‘

2px presentational grey line

رائل نامہ نگار جانی ڈائمنڈ کے مطابق یہ ایک رسمی کارروائی ہو سکتی ہے۔ جائزہ لینے کی مدت کا اختتام ہو رہا ہے، یہ بہت واضح ہے کہ ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی مستقبل کے سفر کی سمت کیا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کیلیفورنیا سے سرپرستی اور تقرریوں کو نہیں دیکھا جا سکتا۔ آپ کی خدمت کا شکریہ، الوداع۔

لیکن اس کے بجائے یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ ہسپتال میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ابھی کافی زیادہ تلخی باقی ہے۔

محل کی طرف سے بیان سے ملکہ کے فلسفے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے جوڑے نے عوامی خدمت کی زندگی ترک کر دی ہے۔ اس لیے اعزازی کمانڈز اور سرپرستیوں کو جانا ہو گا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ آدھا رکھ لیں اور آدھا چھوڑ دیں۔

ہیری کے دادا ڈیوک آف ایڈنبرا ہسپتال میں ہیں۔ تو اب کیوں؟ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ کہانی پہلے ہی باہر آچکی تھی اور ویک اینڈ پر یہ تمام اخبارات میں ہوتی۔

2px presentational grey line

یہ اعلان جوڑے کے اس انکشاف کے کچھ دن بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا تھا ان کے ہاں دوسرا بچہ ہونے والا ہے۔

وہ اگلے ماہ اوپرا ونفری کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں شاہی زندگی سے علیحدگی کے اپنے فیصلے کے بارے میں بات کرنے والے ہیں۔

شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے بعد سے انھوں نے سٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس اور سپاٹیفائی کے ساتھ بھی معاہدے کیے ہیں۔

اپنے والد کو لکھے گئے ایک خط کا متن شائع کرنے پر ڈچز نے حال ہی میں میل آن سنڈے کے خلاف ہائی کورٹ میں ایک جنگ بھی جیتی ہے۔

2px presentational grey line

ہیری اور میگھن کو کن عہدوں سے دستبردار ہونا ہوگا؟

ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس کو اپنے فوجی، دولتِ مشترکہ اور خیراتی اداروں کے ساتھ کردراوں کو ملکہ کو واپس کرنا پڑے گا۔

ہیری کے لیے یہ ہیں:

کیپٹین جنرل، دی رائل میرینز

  • اعزازی ایئر کمانڈنٹ، آر اے ایف ہوننگٹن
  • کموڈور ان چیف، رائل نیوی سمال شپس اینڈ ڈائیونگ
  • صدر، دی کوینز کامن ویلتھ ٹرسٹ
  • پیٹرن، دی رگبی فٹبال یونین
  • پیٹرن، دی رگبی فٹبال لیگ

اور میگھن کے لیے:

  • نائب صدر، دی کوینز کامن ویلتھ ٹرسٹ
  • پیٹرن، دی رائل نیشنل تھیئٹر
  • پیٹرن، دی ایسوسی ایشن آف کامن ویلتھ یونیورسٹیز
BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.