ہفتہ21؍رجب المرجب 1442ھ 6؍مارچ 2021ء

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری  فیصلے  میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں۔

 سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیر اعظم کے خلاف کیس کر رکھا ہے،  غیر جانبداری کا تقاضا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیر اعظم سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس فائزعیسیٰ نے واٹس ایپ پر ملنے والی دستاویزات کی کاپیاں ججز اور اٹارنی جنرل کو دیں، جسٹس فائز عیسیٰ کے بقول یہ دستاویزات انہیں نامعوم ذرائع سے واٹس ایپ پر ملیں۔

 سپریم کورٹ  کے فیصلے  میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا دستاویزات اصل ہیں یا نہیں، یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے کہا دستاویزات کے مصدقہ ہونے پر سوالیہ نشان ہیں۔

 سپریم کورٹ  نے فیصلے میں کہا کہ ان دستاویزات کوعدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

تحریری  فیصلے کے مطابق  اٹارنی جنرل نےکہا جج شکایت کنندہ ہیں اور مناسب نہیں کہ خود معاملہ سنیں۔

سپریم کورٹ  کے تحریری فیصلے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا ان حالات میں فاضل جج کیلئے مناسب نہیں کہ وہ یہ معاملہ سنیں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.