جمعرات یکم شوال المکرم 1442ھ13؍مئی 2021ء

زیادہ ٹرین حادثات ٹریک پار کرنے اور ٹک ٹاک وڈیو بنانے سے ہورہے ہیں، ماہرین

رپورٹ/اعجاز احمد

سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ٹرین حادثات غیر قانونی طور پر ٹریک پار کرنے یعنی ٹریس پاسنگ سے ہوتے ہیں۔ البتہ آج کل ٹک ٹاک وڈیو بنانے کے باعث بھی حادثات ہورہے ہیں۔ تاہم یورپی ریلوے ایجنسی نے ریل کے سفر کو ہوائی جہاز کے بعد دوسرا محفوظ ترین سفر قرار دیا ہے۔

وہ منگل کو یہاں پاکستان ریلوے کی جانب سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ڈی ایس)ریلوے کراچی کے دفتر میں’’ سیفٹی‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کررہے تھے، جس میں عالمی سطح پر ہوئے ٹرین حادثات کی ممکنہ وجوہ اور ان پر قابو پانے کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی گئی۔

ڈپٹی چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ سیفٹی طارق عزیز کولاچی اور سابق ڈپٹی چیف آپریٹنگ سپرنٹنڈنٹ سیفٹی محمد علی چاچڑ نے سیمینار سے خطاب کیا۔

سیمینار میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ٹرین آپریشن کے دوران مسافروں کو اپنی منزل تک ایک محفوظ سفر مہیا کرنے کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، لیکن پھر بھی ٹرین حادثات پیش آجاتے ہیں، جن کی 5 وجوہ ہوسکتی ہیں، جن میں ٹریک کو غیر قانونی طور پار کرنا یعنی ٹریس پاسنگ، انسانی غلطی یا کوتاہی، ٹریک کی مینٹیننس، اوور رولنگ اسٹاک اور سگنل سسٹم میں خرابی شامل ہیں۔

ٹریس پاسنگ ریلوے ٹریک کے قریب کچی آبادی، ٹریک کو غیر ضروری طور پر جلدی سے پار کرنے، جانوروں کی ٹریک پر موجودگی، خودکشی کی کوشش اور ٹک ٹاک وڈیو بنانے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 

سیمینار میں ٹرین حادثات پر قابو پانے کے لیے ٹریس پاسنگ کے نقصانات پر آگاہی مہم شروع کرنے پر زور دیا گیا، جب کہ ریلوے کی تمام تنصیبات اور ٹریک کی مقررہ وقت پر مینٹیننس اور سخت مانیٹرنگ سے بھی ٹرین حادثات میں واضح کمی لائی جاسکتی ہے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.