منگل3؍رجب المرجب 1442ھ 16؍فروری 2021ء

بھارتی فورسز کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں، علی رضا سید

چیئرمین کشمیر کونسل برائے یورپی یونین علی رضا سید نے کہا ہے کہ بھارت یورپی سفارتکاروں کے ایک گروپ کو مقبوضہ کشمیر کا مخصوص اور محدود دورہ کرواکر اس متنازع خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے یورپی ملکوں کے 20 سفارتکاروں اور سفارتی نمائندوں کو 17 فروری بروز بدھ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

اپنے ایک بیان میں چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پانچ اگست 2019 کے بعد بدتر ہوگئی ہے لیکن بھارت اب ان پامالیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یورپی سفارتکاروں کو مخصوص دورہ کروا رہا ہے۔

یہ دورہ بھارت اور یورپ کے مابین 8 مئی کو ہونے والے تجارتی معاہدے سے قبل کروایا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال نارمل دکھائی دے، جبکہ اصل حقائق یہ ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی سیکورٹی فورسز تعینات ہیں جنہیں بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی، ماورائے عدالت قتل عام اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کی کھلی اجازت ہے۔

علی رضا سید نے یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی نمائندہ جوزف بوریل، یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ ماریا ارینا، پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ڈیویڈ میک الیسٹر اور ای یو کے دیگر حکام کو اس محدود دورہ کے تناظر میں خط لکھ کر مقبوضہ کشمیرکے اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں مظالم میں اضافہ کردیا ہے، ابتک یہ غیرملکی نمائندوں کا تیسرا مخصوص دورہ مقبوضہ کشمیر ہے۔ پچھلے دو دوروں کے دوران بھارت نے مقبوضہ وادی میں سب کچھ اچھا دکھانے کی کوشش کی، اور اس مخصوص دورہ کے دوران بھی وہ مصنوعی اور جعلی طریقے سے صورتحال کو بہتر بتانے کی کوشش کرے گا۔

یہ دورہ پچھلے دوروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ کچھ مخصوص لوگوں سے ملاقاتیں کرائی جائیں گی اور دورہ کرنے والے سفارتکار اپنے محدود طے شدہ پروگرام سے ہٹ کر کسی سے بھی نہیں مل سکیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال یہ ہے کہ یہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا عسکری علاقہ ہے جہاں 9 لاکھ بھارتی فورسز تعینات ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ ان سیکورٹی فورسز کو بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی خاص طور پر ماورائے عدالت قتل عام کی کھلی اجازت ہے۔

علی رضا سید نے کہا کہ یورپی سفارتکاروں کے محدود دورہ مقبوضہ کشمیر سے قبل انٹرنیٹ کو وقتی طور پر بحال کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں بشمول سربراہ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ہیومن رائٹس جموں و کشمیر محمد احسن انٹو کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یورپی حکام کو لکھے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے اتحاد کے مرکزی نقطہ نظر میں بنیادی انسانی حقوق پر مبنی جمہوریت کے فروغ پر زور دیا گیا ہے اور یہ نقطہ نظر یورپ اور بھارت کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ امید ہے کہ اس معاہدے میں انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ یورپی یونین کو چاہیے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق کے مسئلے کو مدنظر رکھے۔

عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ حقائق کو دیکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی سویلین آبادی کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کرے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے اس سے پہلے یورپی یونین کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے فیصلوں کو بھی سراہا اور کہاکہ ہمیں امید ہے کہ یورپ آئندہ بھی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حقوق کو پیش نظر رکھے گا اور ہرگز اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرے گا۔

علی رضا سید نے مطالبہ کیا کہ یورپی سفارتکاروں، بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے عہدیداروں کو آزادانہ طور پر مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اصل صورتحال جان سکیں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.