جمعرات یکم شوال المکرم 1442ھ13؍مئی 2021ء

بانو قدسیہ کو بچھڑے چار برس بیت گئے

اردو ناول امربیل اور راجہ گدھ سے شہرت حاصل کرنے والی معروف ناول نگار ، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کی چوتھی برسی آج منائی جا رہی ہے۔

بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو بھارت میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔

انہیں بچپن سے ہی اردو ادب کا بے حد شوق تھا اور اکثر اوقات رسالے پڑھا کرتی تھیں تاہم انہوں نے اردو ادب میں ہی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔

پڑھنے لکھنے کے شوق کی وجہ سے انہوں نے اپنے کالج کے زمانے سے ہی رسالوں میں تحریر کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ انہوں نے ریڈیو کے لیے بھی اپنی تحریریں لکھنا شروع کیں۔

اردو ادب سے بے حد لگاؤ کے باعث انہوں نے اردو میں متعدد ناول لکھے جن میں ان کا ’راجہ گدھ‘ اور ’امر بیل‘ اس قدر مشہور ہوا کہ ان کا نام بہترین ناول نگاروں میں شامل کیا جانے لگا۔

بانو قدسیہ اسٹیج شو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی پنجابی اور اردو زبان میں ڈرامہ اسکرپٹ لکھا کرتی تھی، ان کے ڈراموں میں ‘پیا نام کا دیا ، ‘فٹپاتھ کی گھاس ، ‘آدھی بات اور دیگر شامل ہیں۔

بانو قدسیہ وہ لکھاری ہیں جن کی تحریر میں محبت کی تلخ حقیقت، شگفتگی و شائستگی اور اردو زبان پر مضبوط گرفت نظر آتی ہے۔

انہوں نے مشہور ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس اشفاق احمد سے شادی کی جن کا اردو ادب میں ایک منفرد مقام ہے۔

ان کی بہترین تحریروں اور اردو ادب میں بہترین کارکردگی پر 1983 میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ہلال امتیاز اور 2010 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا جب کہ انہوں نے 2012 میں کمال فن کا ایوراڈ بھی اپنے نام کیا۔

بانو قدسیہ شدید علالت کے باعث 4 فروری 2017 کو دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں لیکن اردو ادب میں ان کے خلا کو کوئی پُر نہیں کرسکتا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.