ہفتہ25؍رمضان المبارک 1442ھ 8؍ مئی 2021ء

اگر کیسز بڑھے تو مجبوراً اسکول بند کرسکتے ہیں: سعید غنی

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ یکم فروری سے پورے ملک میں تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں لیکن اگر دوبارہ کیسز زیادہ بڑھے تو مجبوراً اسکول بند کرسکتے ہیں، بطور وزیر چاہتا ہوں کہ محکمہ تعلیم بہتر ہو۔

سعید غنی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جن اسکولوں کی تیاری نہیں ہے وہ کچھ عرصے اسکول بند رکھ سکتے ہیں، اگر والدین چاہیں تو وہ بچوں کو اسکول جانے سے روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے لیے ممکن نہیں کہ ہر اسکول میں جا کر ایس او پیز چیک کرے، والدین اس حوالے سے ایس او پیز کو چیک کریں۔

سعید غنی نے کہا کہ اسکولوں میں پچاس فیصد بچوں کو حاضری کی اجازت ہوگی، ہم طلبہ کی رہنمائی کے لیے ماڈل ایگزامینیشن پیپر جاری کریں گے اور اسکول کالجز میں کورونا کے ٹیسٹ کرائے ہیں۔

 اب تک کالجز میں کورونا وائرس کی 1.9فیصد شرح ہے، ہم نے اسکول کالجز میں کورونا کے ٹیسٹ کرائے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ اب تک زیادہ کیسز کی وجہ سے4 کالج بند کرچکے ہیں، اسکولوں میں 11ہزار 845ٹیسٹ میں سے 546مثبت آئے ہیں، اسکولوں میں کورونا وائرس کی 5.9فیصد کی شرح ہے۔

انہوں نے کہا کہ دادو کا اسکول زیر تعمیر ہے، وہ عمارت محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں ہوئی، ہماری حکومت آنے کے بعد کوئی اسکول اوطاق کے لیے نہیں بنایا گیا۔

 وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ گورنرز کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی بورڈز میں شامل کیا گیا، گورنر کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، غیر جانبدار ہوتا ہے، آئین کے مطابق سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے ممبرز پر اعتماد نہیں رہا، پی ٹی آئی کی یہ مافیاز کی حکومت ہے، پشاور بی آر ٹی میں کرپشن نہیں ہوئی تو تحقیقات ہونے کیوں نہیں دیتے،یہ کنفیوژ لوگوں کی حکومت ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ اس حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں جلد عوام کی ان سے جان چھٹے گی، جرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے جو تشویشناک ہے، جائزہ لے رہے ہیں کہ پولیس جرائم کو روکنے میں کیوں ناکام ہوئی، سندھ میں جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس کو فری ہینڈ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ریڈ لائن ٹرانسپورٹ منصوبہ بائیو گیس سے چلنا ہے، یہ پراجیکٹ سندھ حکومت کا اور محترمہ کریڈٹ لے رہی ہیں، پی ٹی آئی کا اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں ہے

 سعید غنی نے کہا کہ ہمارے پاس تعلیمی اداروں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، 80 ہزار سے زائد ویکسین وفاق سے سندھ کو ملے گی، پہلے مرحلے میں پیرا میڈیکل اسٹاف کو ویکسین دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے خط لکھا تھا کہ ویکسین لینے کی اجازت دی جائے، ابھی ہمیں قیمتوں کا اندازہ نہیں ہے جب قیمتیں معلوم ہونگی تو سلسلہ آگے بڑھے گا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.