ہفتہ7؍رجب المرجب 1442ھ 20؍فروری 2021ء

الیکشن آرڈیننس آئین اور پارلیمنٹ پر حملہ ہے، پیپلزپارٹی

کراچی/اسلام آباد( اسٹاف رپورٹر+نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اقدام آئین اور پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیا جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ انتخابات ایکٹ (ترمیمی) آرڈی نینس 2021ء کی نامنظوری کے لیے قرارداد کے نوٹسز جمع کرا دیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹر شری رحمن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے متعلق جاری کردہ آرڈیننس اداروں کے درمیان تصادم کا سبب بنے گا،آرڈیننس بد نیتی پر مبنی ہے اس کے اجرا سے عدالت عظمیٰ پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے،ماضی میں پیپلز پارٹی سب سے زیادہ انتخابی دھاندلی کا شکار رہی ہے،ہم بھی شفاف انتخابات چاہتے ہیں لیکن حکومت نے آرڈیننس کا سہارا لے کرخلاف آئین کام کیا ہے،صدراتی آرڈیننس آئین اور پارلیمان پر حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کابینہ ملک کے آئین سے کھیل رہی ہے۔ یہ کابینہ نابیناہے جو آئین نہیں پڑھ سکتی۔ فرض کریں اگر الیکشن آرڈیننس کے تحت ہو جاتے ہیں اور آرڈیننس منسوخ ہو جاتا ہے تو پھر پورا الیکشن ہی کالعدم ہو جائے گا۔میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت کسی ادارے کو تو چھوڑ دے۔ الیکشن کمیشن عدالت عظمیٰ میں اپنا جواب داخل کرا چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جواب میں کہا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی الیکشن آئین کے تحت ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک آئینی ترمیم نہ ہو، اوپن بیلٹ سے الیکشن نہیں کرا سکتے۔ اب حکومت نے الیکشن کمیشن کو بھی عدالت عظمیٰ کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون سازی کرنا تھی تو پھر سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس کیوں بلایا؟ آرڈیننس کی زندگی صرف 120 دن تک ہے۔ پارلیمان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا گیا ہو۔ یہ آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے۔رضا ربانی نے الزام عاید کیا کہ آرڈیننس کو لا کر محسوس ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسی قانون سازی اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں شیری رحمن کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کے لیے اپوزیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہ پارلیمان کو آرڈیننس فیکٹری بنا چکے ہیں۔ اب یہ عدالت پر بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔شیری رحمن کا کہنا تھا کہ پارلیمان اس معاملے پر بحث کر سکتی تھی۔ تاہم حکومت نے اپنے ہاتھوں آئینی بحران پیدا کر دیا ہے۔ لگتا ہے ان کے اپنے اراکین اسمبلی ان کیساتھ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور راتوں رات آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ یہ آئین اورپارلیمان پر حملہ ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ انتخابات ایکٹ (ترمیمی) آرڈی نینس 2021ء کی نامنظوری کے لیے قرارداد کے نوٹسز جمع کرا دیے گئے ہیں۔سینیٹ میں مندرجہ بالا آرڈیننس کی نامنظوری کے حوالے سے باقاعدہ نامنظوری کی قرارداد کا نوٹس جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کی طرف سے جمع کرایا گیا ہے آرڈیننس کی نامنظوری کے لیے قرارداد کا نوٹس سینیٹ کے قواعدوضوابط مجریہ 2012ء کے قاعدہ 142(2)کے تحت جمع کرایا گیا ہے جبکہ قومی اسمبلی میں چترال سے جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے قرارداد زیر قاعدہ 170(2)کا نوٹس جمع کرایا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے اوپن بیلٹ آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔اس کا نام انتخابات (ترمیمی) آرڈیننس 2021ء ہے۔ صدارتی ریفرنس کوصرف اس حد تک عدالت عظمیٰ کی رائے سے مشروط کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے سینیٹ انتخابات کو انتخابات ایکٹ 2017ء کے تحت قرار دیا تو اوپن ووٹنگ ہو گی۔ا نتخابات ایکٹ 2017ء کی شق 81،122میں ترامیم کی گئی ہیں۔صدر پاکستان کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں بھیجا گیا ریفرنس ابھی زیر سماعت ہے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ اس ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے اور مورخہ 8فروری آئندہ سماعت کے لیے مقرر ہے ۔حکومت کی طرف سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں مذکورہ ترمیمات پر مبنی قانون اور آئین میں ترمیم کے بلز پیش کیے جاچکے ہیں۔مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں آرڈیننس کی نامنظوری کا نوٹس پیش کیا جاتا ہے۔

The post الیکشن آرڈیننس آئین اور پارلیمنٹ پر حملہ ہے، پیپلزپارٹی appeared first on Urdu News – Today News – Daily Jasarat News.

بشکریہ جسارت
You might also like

Comments are closed.