پیر، 2 نومبر، 2026 · 23 جمادی الاول، 1448 ہجری

ریفائنریوں کے ریکارڈ منافع کے بعد وزیراعظم کی ’سخت ہدایت‘: پیٹرول کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے میں نظرثانی کیوں کی گئی؟

پاکستان
ریفائنریوں کے ریکارڈ منافع کے بعد وزیراعظم کی ’سخت ہدایت‘: پیٹرول کی قیمت مقرر کرنے کے فارمولے میں نظرثانی کیوں کی گئی؟

پاکستان میں ریفائنریوں کے ریکارڈ منافع کے بعد وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں رد و بدل کرتے ہوئے اس کا کچھ بوجھ صارفین کی بجائے ریفائنریوں کو منتقل کر دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران اور ملک میں تیل کی قیمتوں میں اتار کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہہ ماہی کے دوران پاکستان کی متعدد ریفائنریوں کے منافع میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا۔

مگر اب وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز یہ ’سخت‘ ہدایت دی کہ پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ اضافی بوجھ ریفائنریاں برداشت کریں گی۔

پیر کے روز پاکستان کے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’جمعہ (30 اکتوبر) کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ ہونے جا رہا تھا مگر ریفائنریوں نے تعاون کیا اور ہم اسے روک سکے۔‘

’ایک ماہ کے لیے ریفائنریوں پر 15 ارب روپے کا بوجھ آئے گا جس سے ہم پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کم کر سکیں گے۔‘

تاہم ریفائنریوں کی جانب سے اس فیصلے پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پیشگی مشاورت کے بغیر اعلان کی گئی پالیسی میں تبدیلی کے بعد انھیں پیٹرول پیداواری لاگت سے کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ادھر علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ریفائنریوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے تحفظات سنے جائیں گے۔ مگر ان کا اصرار تھا کہ ’ریفائنریوں نے تین ماہ میں اتنا منافع بھی کمایا جو انھوں نے اس سے پہلے نہیں کمایا تھا۔‘

اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ عارضی طور پر 30 روز کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ ’جب کسی شعبے میں اس قسم کا منافع کمایا جا رہا ہو اور عوام تکلیف میں ہوں تو اسی صورتحال میں حکومت کے لیے مزید قیمت بڑھانا ممکن نہیں تھا۔‘

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

ان کے ہمراہ موجود وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز یہ ’سخت ہدایت‘ جاری کی تھی کہ یہ بوجھ عوام کو نہیں بلکہ ریفائنریوں کو اٹھانا پڑے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں نظرثانی کی ہے اور آئل ریفائنریز کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق نئے فارمولے پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس کے تحت اب سے پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے کارگو کی حقیقی درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ درآمدی قیمت کے تعین کے لیے آخری کارگو کے پریمیم، ضمنی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو استعمال کیا جائے گا۔

حکومت چاہتی ہے کہ امپورٹ پرائس اور ایکس ریفائنری پرائس کے درمیان فرق پیٹرولیم لیوی کی مد میں ادا کیا جائے۔ پیٹرولیم لیوی میں رد و بدل کے ذریعے عام صارفین کے لیے پیٹرول سستا ہو سکتا ہے۔

اس پر عملدرآمد کے لیے تمام ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے پیٹرولیم لیوی نوٹیفکیشن میں متعین کردہ فرق کی رقم بطور پیٹرولیم لیوی جمع کرائیں۔

ریفائنریز کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ضروری جانچ اور مطابقت کے لیے ملکی سطح پر پیٹرول کی یومیہ فروخت کی رپورٹس جمع کرائیں۔

اس سے قبل بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان میں رجسٹرڈ ریفائنریوں کے منافع میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا۔

اٹک ریفائنری نے گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.45 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا، تاہم کمپنی کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اسی عرصے میں اس کا خالص منافع بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہو گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1184 فیصد زیادہ ہے۔

نیشنل ریفائنری کا خالص منافع گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.03 ارب روپے تھا، جو رواں سال اسی مدت میں بڑھ کر 11.57 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یوں کمپنی کے منافع میں تقریباً 1029 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا خالص منافع گذشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 1.02 ارب روپے تھا، جو رواں سال بڑھ کر 13.97 ارب روپے ہو گیا، یعنی ایک سال کے دوران منافع میں تقریباً 1274 فیصد اضافہ ہوا۔

جبکہ سنرجیکو کے مالی نتائج کے مطابق کمپنی کی خالص آمدنی 61.61 ارب روپے سے بڑھ کر 145.17 ارب روپے ہو گئی جبکہ کمپنی نے بعد از ٹیکس 12.88 ارب روپے منافع ریکارڈ کیا جو 2025 کی اسی سہ ماہی میں ہونے والے خسارے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔

ماہرین سے ہونے والی گفتگو سے مجموعی طور پر اتنا زیادہ منافع کمانے کی تین بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ جنگ اور سپلائی (رسد) میں رکاوٹوں کے باعث ڈیزل اور پیٹرول کی عالمی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں، جس سے ریفائنریوں کے منافع کے مارجن میں اضافہ ہوا۔

دوسری یہ کہ بعض کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے سے انوینٹری گین (یعنی نسبتاً کم قیمت پر خریدے گئے تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کی قدر میں اضافہ) حاصل ہوا۔

تیسری یہ کہ عالمی سطح پر ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، کی فراہمی خام تیل کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئی، جس سے ڈیزل کی قیمتوں اور ریفائنری مارجن میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وفاقی کابینہ کے نئے پیٹرول پرائسنگ میکنزم کے تحت عالمی منڈی میں درآمدی پیٹرول کی لاگت بڑھنے کا بوجھ صارفین کے بجائے مقامی ریفائنریوں پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔

تاہم پاکستان کے بعض بروکریج ہاؤسز کا اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے مقامی ریفائنریوں کو فروخت ہونے والے پیٹرول پر نمایاں مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز نے اپنے تجزیے میں کہا کہ مقامی ریفائنریاں ملک کی مجموعی پیٹرول سپلائی کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتی ہیں، اور نئی پالیسی کے تحت ان پر فی لیٹر تقریباً 49 روپے کا مؤثر بوجھ عائد ہوتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس سے ریفائنری شعبے پر مجموعی طور پر 10 سے 15 ارب روپے ماہانہ کا اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

جبکہ شرمین سکیورٹیز کے مطابق اس اقدام سے مقامی ریفائنریوں کے پیٹرول مارجن اور مجموعی ریفائننگ مارجن کم ہو سکتے ہیں، جس سے بعض کمپنیوں کی آمدن اور منافع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے مطابق اگر یہ انتظام عارضی ثابت ہوا تو ریفائنریاں حکومتی ادائیگیوں کے لیے قرض لینے کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم اس صورت میں انھیں اضافی مالیاتی لاگت بھی برداشت کرنا پڑے گی، جبکہ مختصر مدت میں پیٹرول کی فراہمی اور ریفائنری آپریشنز پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اے کے ڈی سکیورٹیز نے تخمینہ لگایا ہے کہ اس سے ریفائنری سیکٹر کو 16.4 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ متاثرہ کمپنی اٹک ریفائنری ہو گی جسے '2.2 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔'

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) سے منسلک تیل کے شعبے کی محقق عافیہ ملک سمجھتی ہیں کہ یہ فیصلہ اس لیے درست نہیں کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی ہے جس میں کمی نہیں کی جا رہی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں کمی کرنی چاہیے تھی۔ یہ رقم حکومت کے پاس جاتی ہے۔ اگر کوئی ریلیف دینا تھا تو اس میں کمی درکار تھی۔‘

'عوام کو ریلیف دیا جانا چاہیے مگر اس کے اور راستے بھی ہو سکتے ہیں۔'

وہ سوال کرتی ہیں کہ 'اگر ریفائنریاں اپنا کاروبار بند کر دیتی ہیں تو حکومت کیا کرے گی؟'

انھوں نے کہا کہ 'حکومت اگر واقعی ڈی ریگولیشن کی طرف جانا چاہتی تھی تو اس اقدام کا کیا مقصد تھا؟ یہ ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہے۔ یہ درست ہے کہ ریفائنریوں نے بہت زیادہ منافع کمایا مگر اب آپ انھیں نقصان میں کیوں بھیجنا چاہتے ہیں؟'

وہ کہتی ہیں کہ 'ایک طرف آپ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے پالیسی منظور کر چکے ہیں اور دوسری طرف آپ ایسے اقدام کر رہے ہیں۔۔۔ اپ گریڈیشن نہ ہونے کی صورت میں درآمدات پر انحصار بڑھے گا۔ پاکستان اس وقت 25 سے 29 فیصد ڈیزل اور 75 فیصد پیٹرول درآمد کر رہا ہے۔'

عافیہ ملک کہتی ہیں کہ حکومت کی آمدن کا بڑا حصہ اب پیٹرولیم لیوی پر منحصر ہے۔ 'یہ ساری آمدن وفاقی حکومت کے پاس جاتی ہے۔۔۔ اسے تحفظ دینے کے لیے حکومت نے نیا راستہ اختیار کیا ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ اس کے جواب میں ریفائنریاں اپ گریڈیشن کا منصوبہ روک سکتی ہیں یا پھر اس سے پیٹرول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

ملک میں توانائی سے متعلق امور کے ماہر اور صحافی علی خضر بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس اقدام سے قبل ریفائنریوں سے مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ریفائنریوں کے ڈیزل کے مارجن سب سے زیادہ ہوتے ہیں جس کے بعد پیٹرول کا نمبر آتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ریفائنریوں نے اگر اس بار منافع کمایا ہے تو وہ پہلے نقصان بھی جھیلتی رہی ہیں۔ منافع پر ٹیکس لگائیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ چونکہ اپنا ٹیکس کم نہیں کر سکتے تو اس کا بوجھ وہ برداشت کریں۔ یہ غلط ہے۔‘

ان کے مطابق اس اقدام کے بعد یہ خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ ریفائنریاں کم پیٹرول ریفائن کرنا شروع کر دیں گی۔

علی خضر کہتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے کا ریلیف یہی ہو گا کہ جو قیمتیں بڑھنی تھیں وہ اب نہیں بڑھیں گی۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’یہ (حکومت) اپنے ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کو کیوں کم نہیں کرتے؟ پیٹرول اور ڈیزل کی اتنی زیادہ قیمتوں پر انھوں نے 80 روپے کا لیوی کیوں رکھا ہے؟‘

بشکریہ بی بی سی اردو