لائیو , آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے قطر کے مائع گیس بردار جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’کشیدگی میں خطرناک اضافہ‘ قرار دیا ہے۔
کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے حملے علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ ہیں۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعے کی شام گیس بردار جہاز المعیدہ خلیج فارس سے گزر رہا تھا جب اسے ایک ’نامعلوم شے‘ نے نشانہ بنایا۔
البدیوی نے خبردار کیا کہ تیل اور گیس بردار جہازوں پر حملے عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ، منڈیوں میں عدم استحکام اور سمندری ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر مبینہ طور پر ’غیر مجاز راستے‘ سے گزر رہے تھے، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے اور دھماکوں کا شکار ہو گئے۔
بیان کے مطابق ان میں سے ایک جہاز ایک ’بہت بڑا آئل ٹینکر‘ تھا، جو شدید دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور جل رہا ہے۔
سپاہ پاسداران نے اپنے سابقہ بیانات کی طرح ان جہازوں پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’خفیہ طور پر‘ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے چند گھنٹے قبل ایک جہاز کو ایک ’نامعلوم پرتابی شے‘ کے نشانہ بننے کی اطلاع دی تھی۔
عالمی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے وینگارڈ کے مطابق متاثرہ جہازوں میں سے ایک پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ دھماکے اور آگ لگنے کے بعد اس کا کچھ حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔
دوسری جانب، حالیہ ہفتوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ امریکی فوج کا موقف ہے کہ ایران ان جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
اتوار یکم نومبر تک کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں
بشکریہ بی بی سی اردو