اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایس ایچ او فیروزآباد کے کردار کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہیے، جبران ناصر

تازہ ترین
ایس ایچ او فیروزآباد کے کردار کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہیے، جبران ناصر

اسکرین گریب/ یوٹیوب

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے ایس ایچ او فیروز آباد، احمد اور عبداللّٰہ بھاردے کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

میر رضا کے اہل خانہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ ہمارے جو خدشات تھے وہ ہم نے رکھ دیے ہیں، ہمیں امید ہے کہ آئندہ کی تحقیقات بہتر ہوگی۔

وکیل میر رضا فیملی نے کہا کہ ایس ایچ او فیروزآباد کے کردار کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہیے، احمد اور عبداللہ بھاردے کے کردار پر بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خامیوں کی نشاندہی ’آج شاہزیب خانزادہ کیساتھ‘ میں کی گئی تھی

جبران ناصر نے بتایا کہ عرفان بلوچ نے کہا ہے کہ آئندہ بھی آپ کو طلب کریں گے، آج میر رضا کی بہن اور والدہ کا بیان نہیں ہوسکا۔

اس سے قبل میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس، کراچی میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی سربراہی میں ہوا، جس میں آج میر رضا کے والدین کو بلایا گیا، سابقہ تحقیقاتی افسر اور تحقیقاتی کمیٹی کے نمائندے بھی طلب کیے گئے تھے۔

جے آئی ٹی میں شامل آئی ایس آئی، آئی بی، پاکستان رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندے اجلاس میں شریک تھے۔

خیال رہے کہ محکمۂ داخلہ سندھ نے میر رضا ہلاکت کیس کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، نوجوان تاجر کی ہلاکت کا مقدمہ تھانا فیروز آباد میں درج ہے۔

کیس کا پس منظر:۔

خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔

پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا، ڈرائیور نے بیان میں بتایا تھا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔

مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ