نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، ہزار سی سی نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، ہارون اختر

اسکرین گریب / یوٹیوب
وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی، الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی ہے، ہزار سی سی سے کم کی گاڑی پر کوئی ایڈیشنل ٹیکس نہیں لگے گا۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہارون اختر نے کہا کہ صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، برآمدات پر مبنی پالیسی طویل مشاورت اور محنت سے مرتب کی گئی ہے، پالیسی کا ایک حصہ گاڑیوں سے متعلق ہے، پالیسی کے باعث اب گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی، مڈل اور اپر کلاس کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، گاڑیوں میں مقامی پیداوار بہت ضروری ہے۔
ہارون اختر نے کہا کہ ایکسپورٹ کے لیے ریوارڈ پالیسی اختیار کی گئی ہے، ایکسپورٹ میں ہدف پورا کرنے پر ریوارڈ دیا جائے گا، گاڑیوں میں لوکلائزیشن ترجیح ہے تاکہ یہاں روزگار بڑھے، گاڑیوں میں لوگوں کی سیفٹی اسٹینڈرز بھی وزیراعظم کی ترجیح ہے، الیکٹرک وہیکلز کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشہ سال انرجی وہیکلز پالیسی لانچ کردی تھی، الیکٹرک گاڑیوں پر بہت مراعات دی گئی ہیں، مراعات دینے سے ملک میں الیکٹرک وہیکل کی تعداد بڑھے گی، پیٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے الیکٹرک وہیکلز کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کیلئے آلات پر کسٹم ایک فیصد، ٹیکس صفر کیا گیا، نئی آٹو پالیسی سے گاڑیاں بنانے کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی، حکومت گاڑیاں برآمد کرنے والوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ لوئر اور مڈل کلاس کے لیے سہولت پیدا کرنے پر وزیراعظم کی خصوصی توجہ ہے، الیکٹرک وہیکلز سے لوگوں کو سہولت اور ماحول کو بھی بڑا فائدہ ہوگا، امپورٹ بل کم ہوجائے تو یہ پیسا ہم صحت اور تعلیم پر لگا سکتے ہیں، وزیر اعظم کی ہدایت ہے کہ متوسط طبقے کےلیے گاڑیوں کی صنعت میں سہولت پیدا کی جائے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ