شمسی طوفان نے زمین کا قدرتی حفاظتی حصار توڑ دیا، خطرناک الیکٹرانز میں 5,000 گنا اضافہ

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مئی 2024ء میں آنے والے شدید شمسی طوفان نے زمین کے قدرتی تابکاری حفاظتی حصار (Radiation Barrier) کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں خطرناک اور انتہائی توانائی والے الیکٹرانز کی تعداد میں 5,000 گنا سے زیادہ اضافہ ہوگیا۔
جاپان کی ناگویا یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ تحقیق سائنسی جریدے ’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘ میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق کے مطابق زمین کے گرد موجود تابکاری کی اندرونی پٹی کو طویل عرصے سے ایک مضبوط حفاظتی رکاوٹ سمجھا جاتا تھا، یہ تہہ انتہائی توانائی والے الیکٹرانز کو زمین کے قریب آنے سے روکتی تھی تاہم حالیہ مشاہدات نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
شمسی طوفان آج زمین سے ٹکرا گیا
جاپان کے اریس سیٹلائٹ نے مئی 2024ء کے شدید شمسی طوفان کے دوران زمین کی اندرونی تابکاری پٹی میں ان الیکٹرانز کی غیر معمولی موجودگی ریکارڈ کی، اس طوفان کے باعث زمین کے گرد موجود پلازما کی مقدار کم ہوگئی جس سے برقی مقناطیسی لہروں نے الیکٹرانز کی توانائی میں غیر معمولی اضافہ کیا۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 3 میگا الیکٹران وولٹ توانائی والے الیکٹرانز کی تعداد میں طوفان سے پہلے کے مقابلے میں 5,000 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔
یہ ذرات روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہیں اور سیٹلائٹس کے حساس برقی آلات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ خلا بازوں کے لیے بھی تابکاری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق اس طوفان کے اثرات اکتوبر 2024ء تک برقرار رہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے خلائی موسم کی بہتر پیش گوئی اور سیٹلائٹس و خلا بازوں کو تابکاری کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ