ٹرمپ کو قتل کرنے کیلئے میرے ذہن میں آوازیں آ رہی تھیں: گرفتار حملہ آوار کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنانے والے شخص کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو قتل کرنے کے لیے میرے ذہن میں آوازیں آ رہی تھیں۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک بیان کے مطابق جمعرات کی شب سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے وائٹ ہاؤس کے قریب پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں مشکوک حرکات کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔
امریکی سیکرٹ سروس نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب ایک گاڑی سے کئی ہتھیاروں کے ساتھ مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ: امریکی صدارتی انتخابات پر مرتب ہونے والے اثرات
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کی شناخت رونی یورڈریکس گوانیپا چرینوس کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق وینزویلا سے ہے اور وہ 2024ء سے غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم تھا۔
بعدازاں ملزم نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ مجھے اپنے ذہن میں امریکی دارالحکومت آنے اور صدر ٹرمپ کو قتل کرنے سے متعلق آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے مطابق ملزم کی گاڑی چوری شدہ تھی، جس کی تلاشی کے دوران 3 مختلف آتشیں اسلحے اور درجنوں گولیاں بھی برآمد ہوئیں۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ گزشتہ سال وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ یا ان کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والے افراد کے خلاف سیکرٹ سروس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ