نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم ہو گئے: امریکی اخبار

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو—فائل فوٹوز
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائے؟ یا بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں؟
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعے کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے حالیہ بریفنگز کے دوران بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کی ہے۔
دوسری جانب نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا ہے، جبکہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے اور ایرانی تجارت کے خلاف امریکی ناکہ بندی برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایرانیوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش ہے، ٹرمپ
امریکا اور ایران میں معاہدہ نہ ہونے کی خبر غلط ہے، قطر
ایران پر حملے کا فیصلہ اسرائیل کا نہیں امریکا کا تھا: اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے متعدد بیرونی مشیروں نے بھی ان پر زور دیا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کیا جائے۔
ان مشیروں کا مؤقف ہے کہ ایسا نتیجہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی اخراجات کو جائز ثابت کر سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ قطری حکام نے جمعے کے روز امریکی فوجی کارروائی کے نئے مرحلے کو روکنے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے آخری لمحات میں سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ