ہفتہ، 7 نومبر، 2026 · 28 جمادی الاول، 1448 ہجری

سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کے 8 اصول طے کردیے

تازہ ترین
سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کے 8 اصول طے کردیے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے 8 اصول طے کردیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مقدمے میں لاڑکانہ علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت برقرار رکھی۔ لاڑکانہ کے رحمت پور تھانے میں درج مقدمے کے مطابق 3 مارچ 2024ء کو دکانوں کو بجلی فراہم کرنے والی تار ٹوٹنے سے نور حسین جاں بحق ہوگئے تھے۔

سیشن عدالت نے علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کی تھی، جسے سندھ ہائی کورٹ نے بعد میں منظور کر لیا، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کے تحریر کردہ فیصلے کے مطابق ضمانت کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی یا ناانصافی پر مبنی ہو، یا ملزم ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کرے تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے تو منسوخی ہوگی، ملزم استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد متاثر کرنے یا رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ ہوگی۔

ایس سی پی کے مطابق اگر امکان ہو ملزم عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہو جائے گا تو ضمانت منسوخ ہوگی، ملزم تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے تو ضمانت منسوخ ہوگی۔

سپریم کورٹ کے طے کردہ اصول کے مطابق ملزم آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسی نوعیت کے کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کرے تو ضمانت منسوخ ہوگی۔

ایس سی پی کے مطابق دورانِ تفتیش نئے شواہد سامنے آئیں، جو ملزم کےجرم کو ثابت کرنے کا اشارہ کریں، تو ضمانت منسوخ ہوگی۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ برقرار رکھا اور کہا کہ ایف آئی آر میں 9 ماہ کی تاخیر اور ملزم کا کردار مزید تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقل چیئرمین واپڈا کو معلومات کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت اور واپڈا و متعلقہ بجلی کمپنی کو غیر قانونی فراہمی اور بجلی چوری میں ملوث افراد کے کردار کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ