جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

یورپ ،13 برس میں بالغ افراد میں آٹزم کی تشخیص 10 گنا بڑھ گئی

تازہ ترین
یورپ ،13 برس میں بالغ افراد میں آٹزم کی تشخیص 10 گنا بڑھ گئی

یورپ خاص طور پر برطانیہ اور سوئیڈن میں 13 برس میں بالغ افراد بالخصوص نوجوان خواتین میں آٹزم کی تشخیص 10 گنا بڑھ گئی ہے۔

شائع شدہ جامع طبی تحقیق کے مطابق 2010ء تا 2023ء کے درمیان ڈرامائی طور پر آٹزم کی تشخیص میں اضافہ ہوا ہے، متاثرین میں بڑی تعداد بےچینی، ڈپریشن اور اے ڈی ایچ ڈی کی ہسٹری رکھنے والے شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس دورانیے میں مرگی اور ذہنی معذوری جیسے روایتی عوارض سے منسلک آٹزم کی کیسز کے تناسب میں کمی سامنے آئی ہے۔

تحقیق کے مطابق ماہرین میں آٹزم کی تشخیص میں 10 گنا تک کے اضافے کی وجوہات پر اختلاف پایا جاتا ہے، کچھ ماہرین اسے طبی آگاہی اور خواتین میں بہتر تشخیصی صلاحیت جبکہ دیگر اسے نجی کلینکس کی تجارتی حکمت عملیوں کا اثر قرار دیتے ہیں۔

دوسری طرف بعض ماہرین کا موقف ہے کہ بروقت تشخیص ان افراد کو مناسب طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

تحقیق کے مطابق 13 سال کے دوران برطانیہ اور سوئیڈن کے 3 کروڑ 30 سے زائد بالغ افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، اس میں 2 لاکھ 41 ہزار 936 افراد میں آٹزم کی تصدیق ہوئی ہے۔

جائزے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ نوجوان خواتین یعنی 16 تا 20 سال میں آٹزم پایا گیا، ان کی تعداد 4 فیصد ہے، ان میں شدید بے چینی کا تناسب 29 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد ہوگیا۔

طبی ماہرین کے مطابق ذہنی صحت کی پیچیدگیوں اور مناسب دیکھ بھال کے لیے بالغ افراد میں آٹزم کی بروقت تشخیص ضروری ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ