جنگ روکنے کیلئے اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے: محمد باقر قالیباف

اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف---فائل فوٹو
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ روکنے کے لیے اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، تہران کی جانب سے واشنگٹن کو مضبوط اور منطقی جواب بھجوا دیا گیا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران نے امریکی فریق کو ایک مضبوط اور معقول جواب دیا ہے اور اب جنگ روکنے کے لیے گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس کی انگلی ٹریگر پر ہے۔
ایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیشرفت ممکن نہیں: باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کسی بھی تزویراتی غلطی کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو ایک نئے محاذ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے ابھی بہت دور ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات کو قبول نہیں کرے گا، امریکا آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے تو اسے ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی، ایران کی شرائط پوری کرنے کے بعد جوہری مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران خطے اور اس سے باہر، امریکی حملوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، جبکہ ثالث امریکا ایران اختلافات کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جنگ