امریکا: عدالتوں سے رہا تارکین کی دوبارہ گرفتاری پر آئی سی ای کو قانونی مشکلات کا سامنا

امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے وفاقی عدالتوں کے رہائی کے احکامات کے باوجود تارکینِ وطن کو دوبارہ گرفتار کرنے پر قانونی تنازع شدت اختیار کر گیا۔
برطانوی اخبار گارجیئن کے مطابق ملک بھر میں ایسے کم از کم 20 واقعات سامنے آئے ہیں جن میں تارکینِ وطن کو حراست کے خلاف وفاقی عدالتوں سے ریلیف ملنے اور رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
نیشنل امیگریشن پروجیکٹ کی وکیل بریجیٹ پرانزاتیلی کے مطابق بعض افراد کو عدالتی حکم پر رہائی کے فوراً بعد دوبارہ حراست میں لے لیا جاتا ہے جو بظاہر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دیدی
متاثرہ افراد میں 77 سالہ فلسطینی شہری اکرم محمود عمر بھی شامل ہیں جنہیں رہائی کے صرف 10 دن بعد دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
ریاست منی سوٹا میں بھی 7 تارکینِ وطن کو وفاقی حراستی مرکز سے باہر نکلنے سے پہلے ہی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔
تحقیقاتی ادارے پرو پبلکا کے مطابق امریکا میں سخت امیگریشن کارروائیوں کے دوران تارکینِ وطن کی جانب سے غیر قانونی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے 91 ہزار سے زائد درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔
متعدد وفاقی ججوں نے امیگریشن حکام کو رہائی کے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ بعض اہلکاروں کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی بھی زیر غور ہے۔
وکلاء نے بعض دوبارہ گرفتاریوں کو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی سے بھی جوڑا ہے جس کے تحت تارکینِ وطن کو ملک بدر کر کے ایسے تیسرے ممالک بھیجا جا رہا ہے جہاں ان کی نہ شہریت ہے اور نہ ہی کوئی ذاتی تعلق۔
بشکریہ روزنامہ جنگ