اتوار، 1 نومبر، 2026 · 22 جمادی الاول، 1448 ہجری

جوانی میں موٹاپا درمیانی عمر تک کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے: تحقیق

تازہ ترین
جوانی میں موٹاپا درمیانی عمر تک کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے: تحقیق

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جوانی میں موٹاپا مستقبل میں کینسر کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے اثرات درمیانی عمر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران جنوبی کوریا کے 20 سے 39 سال کی عمر کے 63 لاکھ سے زائد افراد کے طبی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس میں جسمانی وزن، باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، پیٹ کے گرد چربی اور کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔

سائنس دانوں نے اوسطاً 11.2 سال تک شرکا کی صحت کا جائزہ لیا، اس دوران کینسر کے ایک لاکھ 51 ہزار 893 کیسز سامنے آئے۔

الرجی سے نجات کیلئے گھریلو ٹوٹکے اپنانے سے پہلے یہ اہم احتیاطی تدابیر جان لیں

تحقیق کے مطابق معمول کے وزن والے افراد میں 10 سال کے دوران کینسر کی شرح 1.84 فیصد رہی، جبکہ شدید موٹاپے کے شکار افراد میں یہ شرح 2.62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ وزن میں اضافے کے ساتھ کینسر کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، معمول کے وزن والے افراد کے مقابلے میں زائد وزن رکھنے والوں میں کینسر کا خطرہ 10 فیصد، پہلے درجے کے موٹاپے میں 22 فیصد جبکہ دوسرے درجے کے موٹاپے میں 43 فیصد زیادہ پایا گیا۔

تحقیق میں پیٹ کے گرد اضافی چربی اور کینسر کے خطرے کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا، جبکہ تھائیرائیڈ، رحم کی اندرونی جھلی اور بیضہ دانی کے کینسر کے ساتھ یہ تعلق زیادہ نمایاں رہا۔

سائنس دانوں کے مطابق موٹاپے اور کینسر کے درمیان تعلق مردوں میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دیکھا گیا۔

محققین نے جوانی میں اضافی وزن پر قابو پانے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وزن کم کرنے سے کینسر کا خطرہ لازماً کم ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ تحقیق جنوبی کوریا کی آبادی پر کی گئی، لہٰذا اس کے نتائج دیگر آبادیوں پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ