ایران کا آبنائے ہُرمُز کھولنے کیلئے امریکا سے ایک بار پھر اسلام آباد میمورنڈم پر عملدرآمد کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی : فائل فوٹو
ایران نے آبنائے ہُرمُز کھولنے کے لیے امریکا سے ایک بار پھر اسلام آباد میمورنڈم کے نکات پر عملدرآمد کا مطالبہ کردیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا وہ پابندیاں واپس لے، جو اس نے اسلام آباد میمورنڈم کے بعد ایران پر لگائی ہیں۔ خطے میں امریکی افواج کی تعداد کم کرے اور تیل کی تجارت پر دی گئی چھوٹ بحال کرے۔
عباس عراقچی نے ایران کے قطر میں موجود اثاثوں سمیت تمام منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔
امریکی صدر نے ایران کیخلاف نئی مہم جوئی کی تو جنگ کا دائرہ وسیع ہوجائے گا، ترجمان ایرانی فوج
انہوں نے بتایا کہ قطری فریق نے ایرانی تجاویز پر عمل درآمد کی مدت سات دن سے کم کر کے پانچ دن کرنے کا کہا تھا، بات چیت کے نتیجے میں اب ان تجاویز پر عملدرآمد کی مدت کم ہو کر دو دن رہ گئی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی حکام کا قطر میں امریکی فریق سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ایران امریکا براہِ راست مذاکرات کی خبریں قیاس آرائیاں ہیں، جے ڈی وینس کے پیغام کا جائزہ لیا ہے۔ مذاکرات کے براہ راست یا بالواسطہ ہونے کا فیصلہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی شرائط ماننے کے بعد ہی کریں گے۔
اس سے پہلے قطر کے ایک اخبار نے خبر دی تھی کہ تہران واشنگٹن رابطوں میں پیش رفت ہوئی ہے بہت جلد ایک امریکی وفد دوحا پہنچنے والا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ