ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

مصنوعی ذہانت انسان کے کنٹرول میں رہنی چاہیے: پوپ لیو

تازہ ترین
مصنوعی ذہانت انسان کے کنٹرول میں رہنی چاہیے: پوپ لیو

پوپ لیو چہاردہم---فائل فوٹو

پوپ لیو چہاردہم نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی نگرانی اور کنٹرول میں رہنا چاہیے کیونکہ مشینیں انسانوں کی مدد کے لیے بنائے گئے آلات ہیں، انہیں انسانی ذمے داری کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔

اپنے بیان میں پوپ لیو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں بلکہ اس کا انحصار انسانوں کے فیصلوں پر ہے، اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو معاشرے کے مفاد میں رکھنے کے لیے اس کی رہنمائی، نگرانی اور ضرورت پڑنے پر اس کے استعمال کو مسترد کرنا بھی ضروری ہے۔

پوپ لیو چہاردہم نے خبردار کیا کہ انتہائی طاقت ور مگر ناقابلِ بھروسہ مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں ایسا نظام زیادہ اہم ہے جس کے نتائج قابلِ پیش گوئی اور انسانی کنٹرول میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی، آزادی اور طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلے ہمیشہ باخبر اور ذمے دار انسانی نگرانی میں ہونے چاہئیں، مشینوں کو قانونی شخصیت یا حقوق دینے کی تجاویز بھی انسانی ذمے داری کو دھندلا سکتی ہیں اور متاثرہ افراد کے لیے انصاف کا حصول مشکل بنا سکتی ہیں۔

پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

پوپ نے مصنوعی ذہانت کو ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے نومبر میں جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں شریک ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خودکار مہلک ہتھیاروں پر پابندی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چند طاقت ور یا مراعات یافتہ طبقات کے بجائے پوری انسانیت کے فائدے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے اور اس کے ثمرات خصوصاً ضرورت مند افراد تک منصفانہ انداز میں پہنچنے چاہئیں۔

پوپ لیو چہاردہم نے مصنوعی ذہانت کے لیے مؤثر عالمی قوانین اور احتساب کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمشترکہ عالمی معیار، آزادانہ نگرانی اور واضح جواب دہی کے طریقۂ کار کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے اور نقصان کی صورت میں متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ